
خلیج اردو
6 اگست 1966 متحدہ عرب امارات کی تاریخ کا وہ تاریخی دن ہے جب بانیٔ امارات شیخ زاید بن سلطان النہیان نے امیرِ ابوظبی کا منصب سنبھالا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے ترقی، اتحاد اور جدید ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں 2 دسمبر 1971 کو متحدہ عرب امارات کے قیام پر منتج ہوئی۔
صدرِ یو اے ای شیخ محمد بن زاید النہیان نے اس تاریخی موقع پر کہا کہ یہ دن اس قومی سفر کی یاد دلاتا ہے جس نے ترقی، خوشحالی اور اتحاد کی بنیاد رکھی، جبکہ شیخ زاید کا وژن آج بھی ملک کی رہنمائی کر رہا ہے۔
بدوی ماحول میں تربیت، حکمت اور بصیرت کی بنیاد
شیخ زاید کی پیدائش تقریباً 1918 میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی بدوی ماحول میں گزاری، جہاں صحرائی زندگی، روایات، مجلس (مجلسِ مشاورت) اور عوام سے قریبی تعلق نے ان کی شخصیت میں تحمل، فراخ دلی، دور اندیشی اور قیادت کی صلاحیتیں پیدا کیں۔ انہی اوصاف کی وجہ سے بعد میں انہیں "عربوں کا دانا رہنما” بھی کہا گیا۔
العین میں 20 سال، عوامی خدمت کا عملی امتحان
سن 1946 میں صرف 29 سال کی عمر میں شیخ زاید کو ابوظبی کے مشرقی علاقے العین کا نمائندہ مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے مسلسل 20 سال تک عوام کی خدمت کی۔
اس عرصے میں انہوں نے العین میں جدید انتظامی نظام قائم کیا، 1956 میں امارت کا پہلا جدید اسکول المویجعی اسکول اپنے ذاتی وسائل سے قائم کیا، جبکہ 1959 میں النہیانیہ اسکول کی بنیاد رکھی۔
پانی کی شدید قلت دور کرنے کے لیے انہوں نے زیرِ زمین فلج (Falaj) آبپاشی نظام کی بحالی اور پانی کی منصفانہ تقسیم کا منصوبہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں بنجر صحرا زرعی اور سرسبز علاقے میں تبدیل ہونے لگا۔
1966: اقتدار سنبھالنے کے بعد ترقیاتی انقلاب
ابوظبی میں تیل کی دریافت اور برآمدات شروع ہونے کے بعد 6 اگست 1966 کو آل نہیان خاندان نے متفقہ طور پر شیخ زاید کو ابوظبی کا حکمران منتخب کیا۔
اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے تیل کی آمدنی عوام کی فلاح پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا اور صرف ایک ماہ بعد ابوظبی پلاننگ کونسل قائم کر دی، جس نے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا۔
ان کی قیادت میں اسکول، اسپتال، رہائشی منصوبے، سڑکیں، بجلی اور صاف پانی کے منصوبے تیزی سے مکمل ہوئے، جبکہ ہزاروں خاندان کھجور کے پتوں سے بنے گھروں سے جدید رہائش گاہوں میں منتقل ہوئے۔
انہوں نے 1967 میں ابوظبی کو اوپیک (OPEC) کا رکن بنانے کی راہ ہموار کی اور 1971 میں ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے قیام کی منظوری دی۔
شیخ زاید کا مشہور قول تھا:
"ہم اپنی دولت عوام کی خدمت، اسکولوں، جامعات، اسپتالوں، سڑکوں، کھیتوں اور صنعتوں کی تعمیر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔”
اتحادِ امارات کا خواب حقیقت بنا
جب برطانیہ نے 1968 میں خلیج سے انخلا کا اعلان کیا تو شیخ زاید نے دبئی کے حکمران شیخ راشد بن سعید آل مکتوم کے ساتھ اتحاد کی کوششوں کا آغاز کیا۔
18 فروری 1968 کو دونوں رہنماؤں نے ابوظبی اور دبئی کے درمیان ابتدائی اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد دیگر ریاستیں بھی شامل ہوئیں اور بالآخر 2 دسمبر 1971 کو متحدہ عرب امارات وجود میں آیا۔
تمام حکمرانوں نے متفقہ طور پر شیخ زاید کو ملک کا پہلا صدر منتخب کیا، اور وہ 2 نومبر 2004 میں اپنے انتقال تک اس منصب پر فائز رہے۔
آج، ان کے اقتدار سنبھالنے کے 60 سال مکمل ہونے پر متحدہ عرب امارات ایک ایسے رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کر رہا ہے جس نے صحرا کو ترقی، اتحاد اور خوشحالی کی علامت میں تبدیل کر دیا اور ایک ایسی میراث چھوڑی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔







