متحدہ عرب امارات

ابوظبی عدالت نے سوڈان کو غیر قانونی فوجی سازوسامان اسمگلنگ کیس کی سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی

خلیج اردو
ابوظبی کی وفاقی عدالتِ استیناف نے سوڈان کو غیر قانونی فوجی سازوسامان کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمے کی سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ مقدمے میں 13 افراد اور 6 کمپنیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران وفاقی استغاثہ نے عدالت میں آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز، گفتگو کے ریکارڈ، دستاویزات، تکنیکی و مالیاتی رپورٹس اور متعدد ملزمان کے اعترافی بیانات پیش کیے۔ استغاثہ کے مطابق یہ شواہد ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے مربوط اور مضبوط ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

استغاثہ نے ایک ویڈیو بھی پیش کی جس میں مبینہ مجرمانہ منصوبہ بندی، غیر قانونی فوجی سازوسامان کی خرید و فروخت، کمپنیوں، بینک اکاؤنٹس اور جعلی دستاویزات کے ذریعے رقوم کی منتقلی اور منی لانڈرنگ کے مراحل دکھائے گئے۔ حکام کے مطابق ملزمان کو سوڈان روانہ ہونے والی پرواز کے کارگو کی جانچ کے دوران گرفتار کیا گیا۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی سرزمین، اداروں اور سہولیات کو ان غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا نہ صرف ملکی قوانین بلکہ ریاست کی خودمختاری، قومی سلامتی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر بھی حملہ ہے۔

استغاثہ کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس نیٹ ورک نے فوجی رہنماؤں، سیاسی شخصیات، سوڈانی تاجروں اور امریکی و انٹرپول کی پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد اور کمپنیوں سے بھی رابطے کیے۔ مزید کہا گیا کہ مبینہ طور پر فوجی سازوسامان کے سودے سوڈانی فوج کی اسلحہ کمیٹی کی درخواست پر کیے گئے، جس کی سربراہی عبد الفتاح البرہان اور ان کے نائب یاسر العطا کر رہے تھے، جبکہ مالی رابطہ عثمان الزبیر کے ذریعے کیا گیا۔

دفاعی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض ملزمان کے نام پر فرضی کمپنیاں دوسرے افراد نے قائم کیں اور انہی افراد نے ان کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے رقوم کی منتقلی کی۔ مرکزی ملزم کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے 29 اپریل 2026 کو اس مقدمے میں 13 افراد اور 6 کمپنیوں سمیت مجموعی طور پر 19 ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button