
خلیج اردو
دبئی — دبئی کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر، جسے مقامی طور پر "برج شیخ راشد” کے نام سے جانا جاتا ہے، کی تعمیر اب ایک نئی نسل کے لیے دوبارہ زندہ کر دی گئی ہے، جہاں نایاب تصاویر اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے اس یادگار عمارت کی کہانی کو تازہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
الصفا آرٹ اینڈ ڈیزائن لائبریری میں جاری برج راشد نمائش دبئی کے اس پہلے فلک بوس عمارت کے 45 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی ہے، جس میں تقریباً 30 فنکاروں نے اس تاریخی عمارت کی دوبارہ تخلیق کی ہے۔ یہ نمائش "دبئی کوالٹی آف لائف اسٹریٹیجی” کے تحت سجائی گئی ہے اور "سکّہ پلیٹ فارم” کی معاونت سے جاری ہے۔
تصویروں میں چھپی تعمیر کی کہانی
نمائش کا ایک خاص پہلو وہ ویڈیو ہے جسے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تخلیق کیا گیا ہے۔ فنکار ڈاکٹر احمد العطار اور ان کے ساتھی محمد الحمادی نے پرانی تصاویر، خاکوں اور نایاب تاریخی لمحات کو اکٹھا کر کے ایک متحرک ٹائم لائن تشکیل دی، جس میں برج کی ابتدائی خاکہ سازی سے لے کر موجودہ بلند قامت تک کا سفر بغیر آواز کے پیش کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر احمد نے کہا: "ہم نے ہمیشہ برج خلیفہ کی ٹائم لیپس ویڈیوز دیکھی ہیں، لیکن برج شیخ راشد کی تعمیر کی کوئی ریکارڈنگ موجود نہیں تھی۔ ہم نے مصنوعی ذہانت کی چار سطحوں — توسیع، رنگ کاری، اپ اسکیلنگ، اور انیمیشن — کے ذریعے یہ خلا پُر کیا۔”
یادداشت کا دھاگوں سے اظہار
دوسری جانب فنکارہ سارہ الخیال نے ایک جذباتی اور علامتی انداز اختیار کیا۔ انہوں نے برج کے جیومیٹرک ڈیزائن کو باریک میش پر دھاگوں سے کڑھائی اور کندہ شدہ ایکرائلک کی تہہ کے ذریعے پیش کیا۔ ان کی تخلیق میں یادداشت کی نزاکت کو نمایاں کیا گیا ہے — دور سے مکمل اور ہم آہنگ، مگر قریب سے تھوڑا سا اختلاف جو انسانی یادداشت کی فطرت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا: "میں نے برج کی تعمیر کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، لیکن اس سے ایک تعلق محسوس کرتی ہوں۔ یہ کام میرے لیے اس یادداشت کی نمائندگی ہے جو وقت کے ساتھ مدھم ہو جاتی ہے، مگر اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔”
ماضی اور حال کا ملاپ
برج راشد نمائش صرف ایک یادگار کا جشن نہیں بلکہ دبئی کے ماضی، حال اور مستقبل کو جوڑنے کی ایک بصری کوشش ہے۔ یہ ان افراد کو، جو دبئی کو اپنا گھر کہتے ہیں، اس شہر کی اصل پہچان سے روشناس کراتی ہے، جہاں کبھی ایک اکیلا برج دور سے بلند دکھائی دیتا تھا، اور آج فلک کو چُھونے والی عمارتوں کے بیچ اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ نمائش 2 مئی تک جاری رہے گی اور عوام کے لیے کھلی ہے۔ چاہے آپ فن سے محبت رکھتے ہوں، تاریخ سے لگاؤ رکھتے ہوں یا صرف دبئی کے باسی ہوں، یہ نمائش ضرور دیکھیے۔







