
خلیج اردو
شارجہ: شارجہ پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ نہ دینا ایک خطرناک عادت ہے جو قیمتی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ حکام کے مطابق، اس غفلت کے نتیجے میں ریسکیو کارروائیاں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، جس سے ہنگامی صورتحال میں متاثرہ افراد کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
جنرل ڈیپارٹمنٹ آف پریوینشن اینڈ کمیونٹی پروٹیکشن کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر احمد حاجی السیرکل نے خلیج ٹائمز کو بتایا:
"ابھی بھی بہت سے ڈرائیور ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ دینے میں ناکام رہتے ہیں، جو ایک سنگین غلطی ہے۔ ہر لمحہ اہم ہوتا ہے، اور تاخیر زندگی اور موت کا فرق بن سکتی ہے۔”
وزارت داخلہ کے مطابق سال 2024 میں ملک بھر میں 325 ایسے حادثات ریکارڈ ہوئے جن کی وجہ ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ نہ دینا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ کیسز دبئی (160)، پھر ابوظہبی (107)، عجمان (31)، شارجہ (17)، راس الخیمہ (5)، ام القیوین (3)، اور فجیرہ (2) میں رپورٹ ہوئے۔
شارجہ سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر جنرل کرنل سمیع النقبی نے کہا:
"ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ دینا صرف ایک قاعدہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر کوئی ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کی گاڑی پیچھے سے آ رہی ہو اور سگنل سرخ ہو، تو ڈرائیور کو احتیاط سے زیبرا کراسنگ عبور کرتے ہوئے راستہ دینا چاہیے، بغیر لائٹ توڑے۔ یہ چھوٹا سا اقدام کسی کی جان بچا سکتا ہے۔”
حکام نے شہریوں کو یاد دلایا کہ یہ اقدام صرف انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ عوامی تحفظ اور متحدہ عرب امارات کے ان اہداف کی تکمیل کے لیے بھی ضروری ہے جن کا مقصد سڑکوں پر اموات کو کم کرنا ہے۔
قانونی سزائیں:
ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ نہ دینے پر درج ذیل سزائیں دی جائیں گی:
-
3,000 درہم جرمانہ
-
6 بلیک پوائنٹس
-
گاڑی 30 دن کے لیے ضبط
اگر ڈرائیور کسی قدرتی آفت یا شدید موسم کے دوران امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بنتا ہے، تو اسے مزید:
-
1,000 درہم اضافی جرمانہ
-
4 مزید بلیک پوائنٹس
-
60 دن کے لیے گاڑی ضبط کرنے کی سزا
حکام نے واضح کیا کہ یہ جرمانے اس بات سے قطع نظر لاگو ہوتے ہیں کہ ایمرجنسی گاڑی پیچھے سے آ رہی ہے، ساتھ سے، یا کسی اور لین سے — فوری ردعمل اور بیداری لازمی ہے۔







