
خلیج اردو
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے بھارت کی آبی جارحیت، ریاستی دہشتگردی اور کشمیری عوام پر مظالم کے خلاف ایک متفقہ قرارداد منظور کر لی، جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ اگر پاکستان کے پانی کو روکا گیا تو اسے اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔ یہ قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے پیش کی۔
قرارداد میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، خطے میں اسپانسرڈ دہشت گردی، اور کشمیری عوام کے خلاف مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت کو یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا کوئی اختیار نہیں، اور بھارت کے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ایوان نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان پہلگام واقعے جیسے کسی بھی دہشت گرد حملے میں ملوث نہیں، اور اس قسم کے الزامات کا مقصد صرف عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ پاکستان کی قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم سب پاکستانی ہیں، اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک قربان کرنے کو تیار ہیں۔ ملک کو اس وقت بانی پی ٹی آئی جیسے مضبوط لیڈر کی ضرورت ہے جو فیصلہ کن قیادت فراہم کر سکے۔”
ایوان نے کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی بھی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، اور مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا جائز حق فوری طور پر دیا جائے۔






