متحدہ عرب امارات

کیا آپ ایڈونچر کے شوقین ہیں اور اابوظہبی میں خودکار ٹیکسی میں سفر کرنا چاہتے ہیں؟ اوبرایپ میں یہ سیٹنگ تبدیل کریں

خلیج اردو
ابوظہبی میں خودکار ٹیکسی میں سفر کرنا اب ممکن ہے، مگر اس کا انحصار قسمت سے زیادہ آپ کی اوبر ایپ کی ایک خاص سیٹنگ پر ہے۔ چونکہ یہ خودکار گاڑیاں فی الحال محدود راستوں پر دستیاب ہیں، اس لیے ان میں سفر کرنا ایک نایاب موقع سمجھا جا رہا ہے۔

دسمبر میں اوبر ٹیکنالوجیز اوروی رائیڈ  کی شراکت داری سے ابوظہبی میں یہ خودکار گاڑیاں لانچ کی گئیں، جنہیں Integrated Transport Centre کی حمایت حاصل ہے۔ فی الحال یہ گاڑیاں صرف مخصوص علاقوں میں چلتی ہیں، لیکن اوبرکی ایک سیٹنگ کو فعال کر کے آپ کے ان میں سفر کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اوبر مشرق وسطیٰ میں خودکار موبیلیٹی کے سربراہ محمد جردانہ نے بتایا کہ "اگر صارفین اوبر ایپ میں سیٹنگ کے تحت Ride Preferences میں خودکار سواری کا انتخاب کریں، تو ان کا میچ وی رائیڈ کی خودکار گاڑی سے ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ راستہ کمپنی کے آپریٹنگ زون میں آتا ہو اور گاڑی دستیاب ہو۔”

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ خودکار ٹیکسی کی فراہمی مخصوص طلب پر نہیں کی جا سکتی، لیکن اگر یہ دستیاب ہو تو ایپ خودکار طور پر صارف کو اس سے میچ کر دے گی۔ اس کے باوجود اگر صارف خودکار گاڑی کو قبول نہ کرے تو اسے بغیر اضافی چارج کے روایتی گاڑی فراہم کر دی جائے گی۔

سیکیورٹی ترجیح اول
ابوظہبی میں ان خودکار گاڑیوں میں فی الحال تربیت یافتہ سیفٹی آپریٹرز بھی موجود ہیں تاکہ سواری اور راہگیروں کے لیے محفوظ تجربہ یقینی بنایا جا سکے۔ محمد جردانہ کے مطابق یہ قدم مکمل ڈرائیور لیس کمرشل سروس کی بنیاد بنے گا جو سال کے آخر تک متوقع ہے۔ دبئی میں بھی اسی طرح کا پائلٹ پروجیکٹ جلد شروع کیا جائے گا۔

اتوار کو دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد کو ان گاڑیوں کی تعیناتی کے روڈ میپ پر بریفنگ دی گئی، جس کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 60 سے زائد گاڑیاں روڈ میپنگ، ڈیٹا کلیکشن، اور اسکیننگ کے لیے استعمال ہوں گی، جب کہ اگلے مرحلے میں دبئی کے 65 علاقوں میں پائلٹ آپریشنز شروع کیے جائیں گے۔

عالمی توسیع کا منصوبہ
محمد جردانہ نے بتایا کہ اوبر کا مقصد دنیا بھر میں خودکار نقل و حمل کے پھیلاؤ میں مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔ "ہم خود گاڑیاں بنانے کی بجائے ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں سے شراکت داری کے ذریعے اس نظام کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ خودکار نظام سڑکوں کو زیادہ محفوظ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں کیونکہ یہ انسانی غلطیوں کو ختم کرتے ہیں، اور اوبر کا سارا آپریشن مقامی ریگولیٹرز کے تعاون اور مسلسل نگرانی کے تحت ہو رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button