
خلیج اردو
العین: ایک نابالغ لڑکے کی جانب سے اسنیپ چیٹ پر ایک نوجوان کو دھمکیاں دینے کے واقعے پر العین کی ایک دیوانی عدالت نے لڑکے کے والد کو 3,000 درہم ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ متاثرہ نوجوان نے نابالغ کے والد کے خلاف 50,000 درہم کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا، تاہم عدالت نے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہرجانے کی رقم کم مقرر کی کہ معاملہ جذباتی اور اخلاقی نقصان تک محدود رہا۔
عدالت نے قرار دیا کہ متحدہ عرب امارات کے قانون برائے شہری لین دین کے تحت اگر کسی کو غیر قانونی عمل سے نقصان پہنچے تو وہ معاوضے کا حقدار ہوتا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق نابالغ نے نہ صرف بدزبانی کی بلکہ مدعی کو بالواسطہ طور پر دھمکیاں دے کر اس کی ساکھ اور جذبات کو نقصان پہنچایا۔
قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری کو واضح کرتا ہے، خاص طور پر جب بات سوشل میڈیا پر نابالغوں کے ذریعے کیے گئے سائبر جرائم کی ہو۔
دبئی میں مقیم قانونی مشیر احمد راشد نے کہا کہ "یہ کیس واضح مثال ہے کہ کس طرح والدین کو اپنے بچوں کے غیر قانونی افعال پر دیوانی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قانون کی شق 20 کے تحت الیکٹرانک ذرائع سے دھمکی دینا قابل سزا جرم ہے، چاہے دھمکی بالواسطہ ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ "اگرچہ اس معاملے میں صرف دیوانی ہرجانے کی رقم طے ہوئی، لیکن اس کے پیچھے فوجداری جرم کی تصدیق نے اس فیصلے کی بنیاد فراہم کی۔”
سائبر جرائم اور دیوانی ذمہ داری کی ماہر وکیل منیٰ الہشمی نے کہا کہ "آن لائن بدتمیزی، دھمکیوں اور پرائیویسی کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ فیصلہ والدین کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ "متاثرین کے پاس شکایت درج کرانے کے کئی راستے ہیں جیسے دبئی پولیس کی eCrime سروس، وزارت داخلہ کا سائبر کرائم پورٹل، یا 999 ہاٹ لائن۔ قانون سخت ضرور ہے، لیکن حفاظتی بھی ہے۔”
آن لائن جرائم میں اضافہ
قانونی تجزیہ کاروں کے مطابق جیسے جیسے روزمرہ کے معاملات آن لائن منتقل ہو رہے ہیں، ویسے ہی دھمکی، ہتکِ عزت اور بلیک میلنگ جیسے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عدالتیں ان معاملات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، چاہے مجرم نابالغ ہی کیوں نہ ہو۔
وکیل منیٰ الہشمی نے کہا، "یہ صرف مجرم کو سزا دینے کا معاملہ نہیں، بلکہ متاثرین کو تحفظ اور معاوضہ فراہم کرنے کا بھی ہے، چاہے نقصان رسانی کسی کم عمر سے ہی کیوں نہ ہوئی ہو







