
خلیج اردو
ابو ظہبی کے قصر الوطن میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے اسلامی مالیاتی صنعت کو ترقی دینے اور عالمی سطح پر حلال مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی کی منظوری دے دی ہے۔
یہ اجلاس متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی صدارت میں منعقد ہوا۔
شیخ محمد بن راشد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ "ایکس” پر بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ اگلے چھ سال میں اسلامی بینکوں کے اثاثے 986 ارب درہم سے بڑھا کر 2.56 ٹریلین درہم تک پہنچا دیے جائیں، جبکہ ملک میں لسٹ کیے گئے اسلامی صکوک (سکوک) کے اجرا کی مالیت 2031 تک 660 ارب درہم سے زائد ہو۔
اس حکمت عملی پر عمل درآمد کے لیے مرکزی بینک کے گورنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ شیخ محمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی قومی معیشت کو تمام شعبوں میں متنوع بنانے اور توسیع دینے کے لیے پرعزم ہے۔
قومی بایو سیکیورٹی فریم ورک کی منظوری
کابینہ نے ملک کے قومی بایو سیکیورٹی فریم ورک کو اپ ڈیٹ کرنے کی بھی منظوری دی تاکہ حیاتیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ، تحقیق و جدت کو فروغ، اور بایو سیکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)
اجلاس میں SME سیکٹر پر بھی بریفنگ دی گئی۔ متحدہ عرب امارات نے مسلسل چوتھے سال گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر 2024-2025 میں دنیا بھر میں پہلا نمبر حاصل کیا ہے، جبکہ ابھرتے ہوئے 100 اسٹارٹ اپ ایکو سسٹمز میں 18ویں پوزیشن پر رہا ہے۔ SME لائسنسوں میں 160 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
شیخ محمد بن راشد نے کہا کہ حکومت کا مقصد اس شعبے کو مزید وسعت دینا اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، کیونکہ یہ قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
سیاحت کا شعبہ
کابینہ نے 2024 میں سیاحت، سفر اور مہمان نوازی کے شعبے کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔ شیخ محمد کے مطابق 2023 میں یہ شعبہ 8 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ بنا، اور قومی معیشت میں اس کا حصہ 11.7 فیصد رہا۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے پاس مطلوبہ انفراسٹرکچر موجود ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ اگلے چھ سالوں میں اس شعبے کا قومی معیشت میں حصہ 450 ارب درہم تک پہنچ جائے۔







