
خلیج اردو
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں پر کیے گئے بزدلانہ حملے کو ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگی اقدام (Acts of War) قرار دیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بھارت نے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر نہ صرف معصوم شہریوں کو شہید کیا بلکہ مساجد اور شہری انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا۔
اجلاس میں مسلح افواج کو بھارت کو فوری اور موثر جواب دینے کے لیے مکمل اختیار دے دیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا کہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں خلیجی ممالک کی کمرشل فلائٹس اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوئے، جسے پاکستان کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ علاقائی کشیدگی کو ہوا دینے کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے اور جوابی کارروائی وقت، جگہ اور انداز کا تعین خود کرے گا۔ اجلاس میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ بھارت کی غیرقانونی کارروائیوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور اسے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
قومی سلامتی کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان نے 22 اپریل کے بعد بھارت کو شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی تھی جسے بھارت نے جان بوجھ کر نظرانداز کیا اور سچ کو چھپانے کی کوشش کی۔
اجلاس میں پاک فوج کی بروقت اور مؤثر جوابی حکمت عملی کو سراہا گیا، جبکہ وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس کچھ دیر بعد طلب کرلیا گیا ہے جس میں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کچھ دیر بعد قوم سے خطاب کریں گے جس میں وہ قومی سلامتی کے حوالے سے فیصلوں اور آئندہ کی حکمت عملی سے آگاہ کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پوری قوم اپنی دلیر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور وقار پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔






