عالمی خبریں

اب باتوں کا وقت ختم ہو چکا، عمل کا وقت ہے،رابرٹ پری ووسٹ پہلے امریکی پوپ منتخب، پوپ لیو چہار دہم کا خطاب، عالمی رہنماؤں کی مبارکباد

رابرٹ پری ووسٹ پہلے امریکی پوپ منتخب، پوپ لیو چہار دہم کا خطاب، عالمی رہنماؤں کی مبارکباد

خلیج اردو
ویٹیکن سٹی: کیتھولک مسیحیوں کے نئے روحانی پیشوا کے طور پر امریکی نژاد رابرٹ فرانسس پری ووسٹ کو پوپ منتخب کر لیا گیا ہے۔ ویٹیکن میں ہونے والے انتخابی اجلاس میں چار مرحلوں کی ووٹنگ کے بعد وہ بطور پوپ لیو چہار دہم دنیا کے 267ویں پوپ بنے۔ ان کے انتخاب کے بعد سینٹ پیٹرز باسیلیکا کے باہر ہزاروں عقیدت مندوں نے ’’ویوا اِل پاپا‘‘ (پوپ زندہ باد) کے نعرے لگائے۔

پوپ لیو چہار دہم کا تعلق امریکی شہر شکاگو سے ہے اور وہ 69 برس کے ہیں۔ وہ نہ صرف پہلے امریکی پوپ ہیں بلکہ لاطینی امریکا، خصوصاً پیرو میں بطور مشنری ان کی کئی دہائیوں کی خدمات کی وجہ سے انہیں خطے میں مقبولیت حاصل ہے۔ وہ 1982 میں پادری بنے اور بعدازاں پیرو کے شہر ٹروہیلو میں ایک دہائی تک مقامی پادری اور مدرس کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

اپنے پہلے عوامی خطاب میں پوپ لیو چہار دہم نے سابق پوپ فرانسس کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا، ’’ہم آج بھی پوپ فرانسس کی کمزور مگر دلیرانہ آواز اپنے کانوں میں محسوس کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے دنیا بھر کے مسیحیوں سے کہا کہ ’’ہم خدا کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھیں گے۔‘‘

پوپ لیو چہار دہم نے کیتھولک چرچ میں جاری اصلاحات کے تسلسل کا عندیہ دیا، بالخصوص خواتین کی شمولیت، ماحولیاتی تحفظ، مہاجرین، غریبوں کے حقوق اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد ان کے اہم ایجنڈوں میں شامل ہوں گے۔ وہ چرچ کے بااثر شعبہ، ڈکاسٹری فار بشپس، کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کیتھولک برادری اور پوپ لیو چہار دہم کو ان کے انتخاب پر مبارکباد دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسے ’’امریکیوں کے لیے بڑے اعزاز‘‘ سے تعبیر کیا، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پوپ کو بین المذاہب ہم آہنگی کا استعارہ قرار دیا۔

پوپ لیو چہار دہم نے اپنے خطاب میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’اب باتوں کا وقت ختم ہو چکا، عمل کا وقت ہے۔‘‘ انہوں نے ویٹیکن میں سولر پینلز کی تنصیب اور برقی گاڑیوں کے استعمال جیسے اقدامات کا ذکر بھی کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پوپ کا نام ’’لیو‘‘ رکھنے کا مقصد سماجی انصاف کی علامت بننا ہے، جیسا کہ انیسویں صدی کے پوپ لیو سیزدہم نے صنعتی دور میں مزدوروں کے حقوق کی حمایت کی تھی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button