عالمی خبریں

میری 13 سال کی عمر میں شادی ہوئی مگر میرے جیسا شوہر یا سسرال سب کا نہیں ہوتا

سینیٹ نے کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل منظور کرلیا، جے یو آئی کا واک آؤٹ، اینٹی ریپ ایکٹ سمیت دیگر بلز بھی منظور

خلیج اردو
اسلام آباد، 19 مئی 2025: سینیٹ نے اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی سے متعلق سینیٹر شیری رحمان کا پیش کردہ بل کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔ بل پر بحث کے دوران مذہبی اور سماجی پہلوؤں پر ارکان کے درمیان گرما گرم مکالمہ ہوا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ مذہبی نوعیت کا ہے اور اس پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے بل کو اس انداز میں منظور کرنا مناسب نہیں۔ سینیٹر مولانا عطاالرحمان نے تجویز دی کہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے۔

اس پر جواب دیتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں بلکہ ایک اہم سماجی مسئلہ ہے، اور یہ بل نیا نہیں، اس سے پہلے تحریک انصاف کی حکومت میں قومی اسمبلی سے بھی اسے منظور کیا جا چکا ہے۔

سینیٹر نسیمہ احسان نے بحث میں ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شادی 13 برس کی عمر میں ہوئی تھی، جب وہ ساتویں جماعت میں تھیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان جیسا شوہر یا سسرال سب کو نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علاقے میں کئی لڑکیاں 15 سال کی عمر میں دوران زچگی جاں بحق ہو جاتی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ بچیوں کی کم عمری میں شادی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

بل کی منظوری کے خلاف بطور احتجاج جمعیت علمائے اسلام کے ارکان نے سینیٹ اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

ایوان بالا نے اینٹی ریپ ایکٹ 2021 میں مزید ترمیم، یونیورسٹی آف انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی بل، پاکستان نیوی ترمیمی بل اور سی پیک اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم کے بلز کو بھی منظور کر لیا۔

دوسری جانب سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے نیشنل کمیشن آن دا اسٹیٹس آف ویمن بل 2025 اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل واپس لے لیے۔

سینیٹ کا اجلاس جمعرات کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button