Uncategorized

میرا مقابلہ کسی اور سے نہیں خود سے ہے، کرپشن بالکل بھی منظور نہیں، مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت طویل اجلاس، بارہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری، انسداد تجاوزات و بیوٹی فیکیشن پر ہدایات

خلیج اردو
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت چھ گھنٹے طویل خصوصی اجلاس میں صوبے کے مختلف اضلاع کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں، انسداد تجاوزات، شہری خوبصورتی اور بنیادی سہولیات کی بہتری پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ نے بارہ اضلاع کے ترقیاتی پروگرام خود منظور کیے، جبکہ باقی اضلاع کے منصوبوں پر غور کے لیے اجلاس کل دوبارہ ہوگا۔

اجلاس میں صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز شریک ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے اضلاع میں جاری ترقیاتی کاموں، تجاوزات کے خاتمے، صفائی کی صورتحال اور شہری انفراسٹرکچر سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔ مریم نواز نے کہا کہ تجاوزات کا خاتمہ اور صفائی کا معیار برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم ان معاملات میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے افسران کو واضح ہدایت دی کہ پرفارمنس کے لیے انہیں مکمل آزادی دی گئی ہے اور کسی کو ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت کا موازنہ کسی سابقہ حکومت سے نہیں بلکہ خود اپنے اہداف سے ہے، اور مجموعی کارکردگی اگرچہ بہتر رہی، مگر بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل کامیابی تب ہے جب عوام کو ریلیف کا حقیقی احساس ہو، اور اس مقصد کے لیے وقت کم ہے جبکہ کرنے کا کام بہت زیادہ ہے۔

اجلاس میں پنجاب بھر کے اضلاع میں روڈز، مارکیٹوں، اور بازاروں کی پائیدار اپ لفٹنگ، صفائی کی مستقل بہتری، اور تجاوزات کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ماڈل رکشہ سٹینڈز کے قیام، ہر نئی سڑک کے ساتھ ٹف ٹائل فٹ پاتھوں کی تعمیر، اراضی متاثرین کو مارکیٹ ریٹ پر ادائیگی اور واگزار کرائی گئی سرکاری اراضی کی سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کے احکامات بھی جاری کیے۔

اجلاس میں فیصل آباد میں 9.2 ارب مالیت کی 6416 کنال سرکاری اراضی واگزار کرانے، گھنٹہ گھر بازاروں کی بیوٹی فیکیشن، اور مزید الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ راولپنڈی کے راجہ بازار کی اربن اپ لفٹنگ، تاریخی عمارات کی بحالی، اور والڈ سٹی اتھارٹی کی مشاورت سے منصوبے تیار کیے گئے۔ ساہیوال میں 85 فیصد تجاوزات کا خاتمہ مکمل کرلیا گیا جبکہ صدر بازار اور پاکپتن بازار کی تزئین و آرائش کے ساتھ جنرل بس اسٹینڈ کی منتقلی کی بھی منظوری دی گئی۔

ملتان میں 278 سال پرانی ولی محمد مسجد کی بحالی، شیر شاہ انٹرچینج اور لیاقت آباد روڈ کی اپ لفٹنگ، شہر میں 22 نئے بس سٹاپس کی منظوری، اور نو کلومیٹر طویل ملتان ایونیو پراجیکٹ کا جائزہ لیا گیا۔ چوک گھنٹہ گھر کی بحالی اور توسیع پر بھی جلد کام مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔

سیالکوٹ میں 1089 مقامات سے تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں، جبکہ 17 کنال پر سیالکوٹ فورٹ، اقبال منزل اور باب سیالکوٹ کی تعمیر و بحالی کا منصوبہ پیش کیا گیا۔ ڈیرہ غازی خان میں مرکزی لیاقت بازار اور شاہ سکندر روڈ کی تعمیر و توسیع جاری ہے جبکہ وسیع وعریض سپورٹس ایرینا اور الیکٹرک کارٹس کی فراہمی کا بھی حکم دیا گیا۔

بہاولپور میں فرید گیٹ کی تعمیر و توسیع، فوڈ اسٹریٹ اور 200 سال پرانی الصادق مسجد کی بحالی، سیٹلائٹ ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن کی بیوٹی فیکیشن کی منظوری دی گئی۔ رحیم یار خان کے بازاروں کی مرمت، فائبر گلاس چھتوں، مسٹ فین اور واٹر کولر کی تنصیب کے منصوبے کی منظوری بھی دی گئی۔

گوجرانوالہ میں 116 بازاروں اور سڑکوں سے 6566 مستقل تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا، جی ٹی روڈ پر سالڈ ویسٹ ڈمپنگ سائٹ کو گرین ایریا میں تبدیل کرنے اور لاہور کی طرز پر نئی فوڈ اسٹریٹ بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے کرپشن پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی میں کرپشن قابل افسوس ہے اور اس کے خلاف جامع کریک ڈاؤن ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button