متحدہ عرب امارات

9 سالہ بچی کا بڑا کارنامہ: جس نے پیدل چلنے والی اسمارٹ اسکول کا انعام یافتہ منصوبہ بنایا

خلیج اردو
دبئی – تین 9 سالہ ذہین طلبہ نے ایسی انوکھی ایجاد سے سب کو حیران کر دیا جو طلبہ کے قدموں کی توانائی کو بجلی میں بدل کر اسکول چلا سکتی ہے۔ یہ منفرد خیال "تعلروپ آئیڈیاتھون” مقابلے میں اول انعام کا مستحق قرار پایا۔

الاتحاد پرائیویٹ اسکول الممزر کے طالب علم خلیفہ سلطان الرمیثی، خالد سلطان الرمیثی اور علیا المری ایک سال سے زائد عرصے سے اس "گرین اسمارٹ اسکول” منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ ان کے منصوبے میں پائیزو الیکٹرک ٹائلز نصب کی جائیں گی جو طلبہ کے قدموں سے پیدا ہونے والی توانائی کو محفوظ کرکے اسکول کو بجلی فراہم کریں گی۔

خالد کے مطابق ہر کلاس میں ایک اسمارٹ کوڑا دان بھی ہو گا، جو نامیاتی کچرے کو خودکار طریقے سے کمپوسٹ میں تبدیل کرے گا۔ علیا نے بتایا کہ اسکول میں ایک روبوٹ بھی ہو گا جو ہر کلاس جا کر انہیں بتائے گا کہ وہ کتنی توانائی استعمال کر رہے ہیں، اور جو کلاس کم توانائی خرچ کرے گی، اسے انعام دیا جائے گا۔

یہ منصوبہ پہلے ایک سابقہ مقابلے کے لیے شروع کیا گیا تھا، مگر استاد سہام الامام علی کی رہنمائی سے اس میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج شامل کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ مکمل تخلیق بچوں کی اپنی سوچ اور محنت کا نتیجہ ہے۔

مقابلے کی تقریب "فیوچر آف لرننگ: انوویشن، ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ” کے تحت انٹرکانٹیننٹل دبئی فیسٹیول سٹی میں منگل کے روز منعقد ہوئی، جس میں متحدہ عرب امارات کی 50 سے زائد تعلیمی اداروں کی ٹیموں نے حصہ لیا۔

یونیورسٹی سطح پر کامیابی: جیب میں بایوٹیک لیب

یونیورسٹی زمرے میں بی آئی ٹی ایس پلانی دبئی کی طالبہ کنیشہ مہاویر جین فاتح قرار پائیں، جنہوں نے موبائل فون کو بایوٹیک لیب میں بدلنے کا آئیڈیا پیش کیا۔ ان کا منصوبہ "BIOreality” ورچوئل ریئلٹی کے ذریعے پروٹین فولڈنگ اور ڈی این اے سیکوئنسنگ جیسے تجربات کو موبائل پر ممکن بناتا ہے۔

یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن کنیشہ اسے عملی شکل دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔

تعلروپ کی بین الاقوامی آپریشنز ڈائریکٹر مشانہ محمد کے مطابق، "ہمیں ایسی کئی حیران کن تجاویز موصول ہوئیں جن میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عام مسائل کا حل تجویز کیا گیا تھا۔ جتنے منفرد خیالات، اتنی ہی زیادہ خوشی ہمیں ہوئی

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button