
خلیج اردو
دبئی:دبئی میں نجی جامعات میں داخلوں کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں 2024-25 کے تعلیمی سال کے لیے طلبہ کے اندراج میں مجموعی طور پر 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بعض جامعات میں یہ شرح 120 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث کئی تعلیمی اداروں نے ویٹنگ لسٹیں متعارف کروا دی ہیں، خاص طور پر بزنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے مقبول شعبوں میں۔
سمبیوسس انٹرنیشنل یونیورسٹی دبئی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر انیتا پٹانکر کے مطابق، "اس سال ہمارے ہاں طلبہ کے اندراج میں 120 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو نہ صرف اعداد و شمار میں اضافہ ہے بلکہ ہماری بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ، CAA سے منظور شدہ پروگرامز پر اعتماد کا اظہار بھی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ B.Tech اور BCA پروگرامز میں AI کے جدید کورسز کی وجہ سے خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، جبکہ BBA اور MBA پروگرامز دبئی کی متحرک معیشت اور قائدانہ کرداروں کی مانگ کے باعث طلبہ کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
سمبیوسس یونیورسٹی نے ویٹنگ لسٹ پر طلبہ کا انتخاب تعلیمی کارکردگی اور انٹرویوز کی بنیاد پر شروع کر دیا ہے۔ B.Tech کے لیے طلبہ کو فزکس، کیمسٹری اور میتھ میں کم از کم 65 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہے، جبکہ MBA کے امیدواروں کو ابتدائی جانچ کے بعد انٹرویو سے گزرنا پڑتا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دبئی کی 41 نجی جامعات میں 42,026 طلبہ زیر تعلیم ہیں، جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اماراتی طلبہ کے داخلے میں بھی 22 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ بین الاقوامی طلبہ اب کل طلبہ کا 35 فیصد ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہیں۔
یونیورسٹی آف یورپ فار اپلائیڈ سائنسز دبئی (UE دبئی) نے بھی 25 سے 30 فیصد کے درمیان طلبہ کے اندراج میں اضافہ رپورٹ کیا ہے۔ ادارے کے مطابق، بزنس، ڈیٹا سائنس اور MBA پروگرامز میں سب سے زیادہ دلچسپی دیکھی جا رہی ہے، اور داخلے پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر دیے جا رہے ہیں۔
دوسری طرف، عبداللہ الغریر فاؤنڈیشن (AGF) ویٹنگ لسٹ کے بجائے توسیعی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔ فاؤنڈیشن کی سی ای او ڈاکٹر سونیا بن جعفر کے مطابق، "ہم ویٹنگ لسٹ پر یقین نہیں رکھتے۔ ہمارا مقصد رکاوٹیں ختم کرنا ہے، نہ کہ انہیں تقویت دینا۔”
AGF کی جانب سے جنوری سے مئی 2025 کے دوران تقریباً 14,000 نئے طلبہ نے پروگرامز میں اندراج کرایا۔ فاؤنڈیشن کا AI سے تقویت یافتہ پلیٹ فارم "مسار الغریر” طلبہ کو یو اے ای کی نوکریوں کے رجحانات سے ہم آہنگ سیکھنے کے ذاتی راستے فراہم کرتا ہے۔
ڈاکٹر سونیا کے مطابق، "جب سیکھنے کا عمل موزوں اور تسلیم شدہ ہو، تو نوجوان قیادت کے لیے تیار ہو کر سامنے آتے ہیں۔”
تعلیمی اداروں کے مطابق اس دلچسپی کی بڑی وجوہات میں دبئی کا کثیرالثقافتی اور اختراعی شہر کے طور پر مقام، دوطرفہ تعلیمی منصوبے، اور ابھرتی ہوئی صنعتوں جیسے AI، ڈیجیٹل میڈیا اور ڈیٹا سائنس سے ہم آہنگ پروگرامز شامل ہیں۔
جامعات نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جلد از جلد داخلے کے لیے درخواست دیں تاکہ نہ صرف سکالرشپ اور مالی معاملات میں سہولت ملے، بلکہ داخلے کے عمل میں بھی آسانی ہو۔







