پاکستانی خبریں

راولپنڈی: مری میں تعینات خاتون میڈیکل آفیسر کا مبینہ ریپ، ملزم نے وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر ہونے کا دعویٰ کیا

خلیج اردو
راولپنڈی – پاکستان کے معتبر سمجھے جانے والے انگریزی اخبار ڈان کے مطابق مری کے سملی سینیٹوریم اسپتال میں تعینات ایک خاتون میڈیکل آفیسر کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ملزم خود کو وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر ظاہر کرتا رہا اور خاتون کو تبادلے کا جھانسہ دے کر لاہور بلوایا۔

ایف آئی آر کے مطابق، متاثرہ خاتون کا تعلق خانیوال کے ایک گاؤں سے ہے، اور ملزم بھی اسی گاؤں کا رہائشی ہے۔ ملزم نے خاتون سے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر ہے اور اس کا تبادلہ کسی بھی ہسپتال میں کرا سکتا ہے۔ متعدد مرتبہ یقین دہانی کے بعد اس نے خاتون کو لاہور آنے کا کہا، جہاں اس نے مبینہ طور پر اس کی فیملی کی ویڈیوز دکھا کر دھمکیاں دیں اور جنسی زیادتی کی کوشش کی۔

پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20 مئی کو ملزم نے مری میں واقع ہاسٹل میں زبردستی داخل ہو کر خود کو متاثرہ خاتون کا شوہر ظاہر کیا، سیکیورٹی گارڈ کو دھکا دے کر کمرے میں گھسا، اور خاتون کو زبردستی باہر لا کر ایک ٹیکسی میں بٹھایا جس میں دو افراد پہلے سے موجود تھے۔

خاتون نے بیان دیا کہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور ایک ہوٹل لے جایا گیا، جہاں دو افراد پہرہ دے رہے تھے۔ وہاں اسے رات بھر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اگلے روز وہ کسی طرح فرار ہو کر اپنے والد سے رابطے میں آئی، جو اس وقت ملتان میں تھے۔

والد کے مری پہنچنے پر خاتون نے تھانے میں باقاعدہ شکایت درج کرائی، جس میں زیادتی، اغوا اور جعلی سرکاری حیثیت ظاہر کرنے کے الزامات شامل کیے گئے ہیں۔ مقدمہ درج کرلیا گیا ہے لیکن اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button