پاکستانی خبریں

سندھ کا 3 ہزار 451 ارب روپے کا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

خلیج اردو
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 2025-2024 کا 3 ہزار 451 ارب روپے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کردیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔

مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 12 فیصد اور گریڈ 17 سے 22 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جبکہ پنشن میں 8 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

تعلیم کے شعبے کیلئے بجٹ میں 12.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت 523 ارب 73 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صحت کے شعبے کیلئے بھی 8 فیصد اضافے کے ساتھ 303 ارب 2 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

مالیاتی منتقلیوں میں ممکنہ کمی کے پیش نظر سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے بجٹ میں 20 فیصد کٹوتی کی گئی ہے، جس کے بعد یہ 520 ارب روپے تک محدود کیا گیا ہے۔ جاری اخراجات میں 12.5 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 1 ہزار 912 ارب 36 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بلدیاتی حکومتوں کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 132 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نئے مالی سال میں 4 ہزار 400 اساتذہ اور دیگر تعلیمی عملے کی بھرتی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ 4 آئی بی اے کمیونٹی کالجز قائم کیے جائیں گے۔

محکمہ خزانہ نے پروفیشنل ٹیکس اور انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جبکہ موٹر وہیکل ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔ سیلز ٹیکس نظام کو آسان بنانے کیلئے نیگیٹو لسٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔

بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کا شدید احتجاج

سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی تقریر کے دوران ایوان میں شور شرابہ دیکھنے میں آیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما علی خورشیدی نے بجٹ کو "وڈیرا شاہی بجٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری سندھ کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے۔

ایوان میں ایم کیو ایم ارکان کی جانب سے "متعصب بجٹ نامنظور، شاہی بجٹ نامنظور، سی ایم گردی نامنظور” کے نعرے بھی لگائے گئے، جس کے باعث ماحول کشیدہ رہا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button