
خلیج اردو
ابوظہبی، 17 جون 2025
متحدہ عرب امارات میں وزٹ ویزے پر آنے والے نوکری کے متلاشی افراد کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ نوکری کی پیشکش ملنے کے باوجود باضابطہ ورک پرمٹ اور اقامہ حاصل کیے بغیر کام کا آغاز نہ کریں۔ حالیہ رپورٹس میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں نوکری کے جھوٹے وعدوں پر افراد نے کام شروع کیا لیکن بالآخر انہیں قانونی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
متعدد متاثرہ افراد نے بتایا کہ انہیں ملازمت کی آفر لیٹر دی گئی، کام شروع کرنے کو کہا گیا، اور مستقل ویزے کا وعدہ کیا گیا، مگر چند ہفتوں یا مہینوں بعد کمپنی نے اچانک بھرتی کا عمل روک دیا، اور وہ بغیر تنخواہ اور قانونی حیثیت کے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
اکرم (فرضی نام)، جو ابو ظہبی میں ایک لائٹنگ کمپنی میں بطور سیلز ایگزیکٹو کام کرنے آئے، کو کہا گیا کہ وہ اپنے ویزے کی میعاد ختم ہونے پر بھارت واپس جا کر دوبارہ وزٹ ویزے پر آئیں تاکہ کمپنی انہیں ورک ویزہ جاری کر سکے۔ انہوں نے اس پر Dh2,500 خرچ کر کے 22 اپریل کو دوبارہ واپسی کی، اگلے دن سے کام شروع کیا، لیکن 2 جون کو کمپنی نے انہیں آگاہ کیا کہ وہ اب مزید اُن کی بھرتی نہیں کرے گی۔
یاسر، ایک 29 سالہ مارکیٹنگ گریجویٹ، نے ایک ایونٹ مینجمنٹ کمپنی میں کام شروع کیا اور دو ماہ تک بغیر ورک ویزے کے خدمات انجام دیں۔ ہر بار ویزے کے بارے میں استفسار پر انہیں ٹال دیا گیا۔ مارچ کے آغاز میں کمپنی نے بجٹ کا بہانہ بنا کر انہیں نکال دیا۔ نتیجتاً وہ 6 مارچ کو بغیر مکمل تنخواہ اور قانونی حیثیت کے ملک واپس چلے گئے۔
متحدہ عرب امارات کے قوانین، خصوصاً فیڈرل ڈکری لا نمبر 33 (2021) اور 29 (2021)، اس امر پر واضح ہیں کہ وزٹ ویزے پر کام کرنا اور کروانا دونوں غیر قانونی ہیں۔ حالیہ ترامیم کے تحت، فیڈرل ڈکری لا نمبر 9 (2024) کے آرٹیکل 60(1)(a) کے مطابق، خلاف ورزی کی صورت میں آجر کو Dh100,000 سے Dh1,000,000 تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
نوکری کے ماہرین کے مطابق، آفر لیٹر پر فوری کام شروع کروانا، ویزہ پراسیس مکمل کیے بغیر ڈیوٹی لینا، یا زبانی وعدوں پر بھروسہ کرنا خطرناک اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ ڈینا صبحی العبیدی، جو کہ ایک ہیومن ریسورس کنسلٹنٹ ہیں، نے کہا، “ایسا طرز عمل نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ امیدوار کی عزتِ نفس، جذبات اور مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔”
ادھر ماہر نفسیات ڈاکٹر عامر جاوید کے مطابق، اس طرح کی جھوٹی امیدیں متاثرہ افراد میں مایوسی، اضطراب، نیند کی خرابی، اعتماد کی کمی، اور بعض اوقات ڈپریشن یا پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امیدواروں کو نوکری کی پیشکش ملنے کے باوجود اس وقت تک کام کا آغاز نہیں کرنا چاہیے جب تک باقاعدہ ورک پرمٹ جاری نہ ہو جائے۔ کسی بھی غیر قانونی یا زبانی وعدے سے بچنے کے لیے امیدواروں کو ہر مرحلے پر دستاویزی شواہد اور شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔







