متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات: مانسون کو ترسنے والے بھارتی تارکین وطن نے صحرا میں بارش کی تلاش کو مشن بنا لیا

خلیج اردو
دبئی: کیرالہ سے تعلق رکھنے والے محمد سجاد جب 2015 میں متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے، تو وہ اپنے وطن کے مانسون کو شدت سے یاد کرنے لگے۔ سخت دھوپ اور خشک موسم نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے ایک انوکھا راستہ چن لیا — صحرا میں بارش کی تلاش۔

35 سالہ سجاد نے ابتدائی طور پر یو اے ای میں بارش کے امکانات سے متعلق معلومات جمع کرنا شروع کیں، اور جلد ہی وہ سیٹلائٹ تصاویر، موسمیاتی ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکنہ بارش کے علاقوں کا اندازہ لگانے لگے۔ اب وہ نہ صرف خود بارش کا پیچھا کرتے ہیں بلکہ دیگر بھارتی تارکین وطن کو بھی اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں جو اپنے وطن کی بارش کو یاد کرتے ہیں۔

سجاد نے انسٹاگرام پر “UAE Weatherman” کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنایا، جس پر ان کے 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔ وہ ہفتہ وار پیش گوئی کرتے ہیں کہ کہاں اور کب بارش ہو سکتی ہے، اور پھر اپنے فالوورز کو اس مخصوص مقام پر مدعو کرتے ہیں۔

حال ہی میں سجاد نے 100 سے زائد گاڑیوں کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے شارجہ سے صحرا کا رخ کیا۔ خوش قسمتی سے اس بار ان کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی، اور قافلہ جیسے ہی مقررہ مقام پر پہنچا، آسمان سے بارش برسنے لگی۔
شرکاء نے گاڑیوں سے باہر نکل کر خوشی سے چہروں پر بہتے بارش کے قطروں کو محسوس کیا — ان لمحوں نے انہیں وطن کی یاد دلا دی۔

سجاد کہتے ہیں: "یہ ایک حیرت انگیز لمحہ ہوتا ہے، سب کو اپنے وطن کی بارش یاد آتی ہے، ایک جذباتی کیفیت ہوتی ہے۔”

متحدہ عرب امارات میں کل آبادی کا بڑا حصہ غیر ملکیوں پر مشتمل ہے، جن میں تقریباً 35 لاکھ بھارتی شامل ہیں — یہ ملک کی سب سے بڑی تارکین وطن برادری ہے۔

حالانکہ یو اے ای میں جدید ’کلاؤڈ سیڈنگ‘ ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، لیکن ملک میں اوسط سالانہ بارش محض 50 سے 100 ملی میٹر تک محدود ہے، جو عموماً سردیوں کے دوران شدید مگر مختصر طوفانی بارشوں کی صورت میں ہوتی ہے۔

ماہر موسمیات ڈیانا فرانسس کے مطابق گرمیوں میں پانچ ملی میٹر سے بھی کم بارش ہوتی ہے، اور وہ بھی اکثر ان علاقوں میں گرتی ہے جہاں آبادی کم ہے، اس لیے بارش کے متوالوں کو گہرے صحراؤں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

ایک اور بھارتی خاتون تارک وطن اناگھا نے کہا: "یہ لمحہ بہت خاص ہے، کیونکہ ہمارے گھر والے تو بارش سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور ہم یہاں شدید دھوپ میں جی رہے ہیں۔”

اگرچہ اپریل 2024 میں یو اے ای نے 75 برسوں کی سب سے شدید بارش دیکھی، جس میں ایک دن میں 259.5 ملی میٹر بارش ہوئی، لیکن وہ تجربہ خوشگوار نہیں تھا۔
دبئی سمیت کئی علاقے زیرِ آب آ گئے، چار افراد جاں بحق ہوئے، اور ملک کئی دن مفلوج رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی بارشیں ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ تھیں۔

تاہم اس بار سجاد اور ان جیسے شوقین شہری صحرا میں آسمان سے برسنے والی نعمت سے سکون اور خوشی کشید کر رہے ہیں — شاید وطن کی یاد اور بارش کی خوشبو ہی ان کا اصل مسکن ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button