
خلیج اردو
دبئی: ماحولیاتی تحفظ اور ری سائیکلنگ کے فروغ کے لیے دبئی میں مقیم لبنانی نژاد کاروباری شخصیت چارلس جابور ایک منفرد منصوبے پر کام کر رہے ہیں — وہ دو ملین استعمال شدہ چپ اسٹکس (چینی کھانے کے لیے استعمال ہونے والی لکڑیاں) سے ’منی برج خلیفہ‘ تیار کر رہے ہیں، جسے دنیا کا بلند ترین ری سائیکل شدہ لکڑی سے بنایا گیا ڈھانچہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ ’’برج بامبوسا پروجیکٹ‘‘ کے نام سے معروف ہے، اور دبئی کے الفرجان میں واقع دی آربر اسکول میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور جابور کی ٹیم کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے۔ چھ میٹر بلند یہ ٹاور نہ صرف ماحول دوستی کا پیغام دے رہا ہے بلکہ سرکلر اکانومی اور اپ سائیکلنگ کے اصولوں کو عملی طور پر اجاگر کر رہا ہے۔
چپ اسٹکس کا نیا مصرف
جابور کے مطابق دبئی کے ریستوران ہفتہ وار تقریباً اتنی ہی مقدار میں چپ اسٹکس استعمال کرتے ہیں، جتنی اس منصوبے میں لگائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ وسائل کا ضیاع ہے، لیکن اسے موقع کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘
جابور نے اپنی کمپنی Art & Culture LLC کے تحت دبئی میں ChopValue مائیکرو فیکٹری قائم کی ہے، جو کینیڈا کے شہر وینکوور میں قائم ایک عالمی سرکلر اکانومی برانڈ ہے۔ دبئی میں انہوں نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران ریستورانوں سے چپ اسٹکس اکٹھی کیں، جنہیں بعد میں مختلف اشیاء جیسے میزیں، چاکنگ بورڈ، کوسٹرز اور دیگر ’کلائمیٹ پازیٹو‘ مصنوعات میں تبدیل کیا گیا۔
طلبہ کی شرکت اور ماحولیاتی تعلیم
آربر اسکول کے طلبہ نے اس منصوبے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ انہوں نے چپ اسٹکس کو جوڑنے، فضلہ کے آڈٹ کرنے، ماحولیاتی اثرات کا حساب لگانے اور پورے عمل کو دستاویزی بنانے میں کردار ادا کیا۔ اسکول کا خاصہ ماحولیاتی خواندگی اور پائیداری پر مبنی نصاب ہے۔
ہوٹل اور ریستوران بھی شامل
جابور نے The Noodle House، Wagamama، اور Radisson Blu Hotel Deira Creek جیسے ریستورانوں سے شراکت داری کی ہے، جہاں صارفین کے استعمال شدہ چپ اسٹکس عملے کے ذریعے جمع کی جاتی ہیں۔
ماحول، روزگار اور آگاہی
جابور کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم ہر سال تقریباً 250 ٹن چپ اسٹکس کو لینڈ فل میں جانے سے بچانا چاہتی ہے، اور انہیں کاربن نیوٹرل طریقے سے نئے پائیدار مصنوعات میں بدل کر ماحولیاتی توازن کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
جابور نے مزید کہا کہ ’’یہ تھوڑا سا طنزیہ بھی ہے کہ یہ چپ اسٹکس اب اپنے اصل مقصد کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک موجود رہیں گی، جو کہ جنگلات، ہمارے ماحولیاتی نظام، اور کرہ ارض کے لیے خوش آئند بات ہے۔





