
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات نے اپنے مقبول ترین گولڈن ویزا پروگرام کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سرمایہ کاری سے آگے بڑھ کر اب طویل مدتی معاشی ترقی اور باصلاحیت افراد کی شمولیت پر توجہ مرکوز کر لی ہے۔
دبئی میں کمپنی فارمیشن اور ویزا سروسز فراہم کرنے والی فرم JSB کے بانی و منیجنگ ڈائریکٹر، گورو کیشوانی نے خلیج ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اب گولڈن ویزا کے امیدواروں کا انتخاب صرف سرمایہ کاری کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات پر کیا جا رہا ہے کہ وہ مقامی ماحولیاتی نظام میں کتنا مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق، "کووڈ کے بعد حکومت کا بنیادی ہدف سرمایہ کو ملک میں لانا تھا، اسی وجہ سے 2022-23 کی ابتدائی لہر میں زیادہ تر گولڈن ویزا جائیداد میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو دیے گئے۔” تاہم 2023-24 کے بعد حکومت نے وزارت ثقافت، وزارت کھیل اور ابوظہبی ریزیڈنٹس آفس جیسے اداروں کو اختیار دیا کہ وہ دنیا بھر سے ایسے افراد کی تلاش کریں جو یو اے ای کو اپنا دوسرا گھر بنا سکیں اور ملکی معیشت میں مثبت کردار ادا کریں۔
کیشوانی کا کہنا تھا کہ اب یہ پروگرام صرف سرمایہ نہیں بلکہ طویل مدتی نمو کی صلاحیت کو مدِنظر رکھتا ہے۔ "ہم اب مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور نجی دولت کے انتظام جیسے شعبوں سے امیدواروں کو منتخب ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے، اور اب وہ مہارت رکھنے والے افراد کو ترجیح دے رہی ہے جو معاشرے میں وسیع تر سطح پر شراکت کر سکیں۔”
2019 میں متعارف کروایا گیا یہ پروگرام دبئی میں 2023 تک 1 لاکھ 58 ہزار افراد کو دیا گیا۔ ان میں سے 40 فیصد سرمایہ کار جبکہ بقیہ 60 فیصد مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے تھے۔ کیشوانی کے مطابق تقریباً 22 فیصد افراد بینکاری اور غیر بینکاری پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں اے آئی اور ماحولیاتی تبدیلی کے ماہرین بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابتدائی مرحلہ سرمایہ کاری پر مرکوز تھا، لیکن اب حکومت نے دنیا کے 20 بڑے ہیج فنڈز میں سے 8 کو ملک میں لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو 48 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لا چکے ہیں۔ اب ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو اس سرمائے کو بہتر طریقے سے منظم کر سکیں، جیسے کہ سی ای اوز اور سی ٹی اوز۔
مزید شعبہ جات کا اضافہ متوقع
کیشوانی کے مطابق، ان کی فرم نے گذشتہ چھ ماہ میں 250 سے زائد افراد کو گولڈن ویزا حاصل کر کے دیا ہے، اور مستقبل میں مزید شعبہ جات کو اس پروگرام میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ "خاص طور پر اے آئی، کلائمیٹ ٹیک، آئی او ٹی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گذشتہ پانچ ماہ میں ہی پرائیویٹ بینکرز، اے آئی کنسلٹنٹس اور کلاؤڈ ایکسپرٹس کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔”
پیشہ ور افراد کے لیے مزید سہولتیں
کیشوانی نے گولڈن ویزا کی ایک اہم سہولت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ طویل مدتی اقامت افراد کو نوکری چھوڑنے یا کاروبار شروع کرنے کی آزادی دیتا ہے، اور وہ پھر بھی یو اے ای میں مقیم رہ سکتے ہیں۔ "حکومت نے ایشیا پیسفک خطے سے باصلاحیت افراد کو ہدف بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے، اور اب اعلیٰ تنخواہ پر کام کرنے والے پیشہ ور افراد یہاں پراپرٹی میں سرمایہ کاری کر کے اقامت حاصل کر سکتے ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ سرمایہ کاری اور اقامت کو قانونی طور پر الگ کیا گیا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص اپنی سرمایہ کاری کو فروخت کر کے کسی اور شعبے میں منتقل کرنا چاہے، تو اس سے اس کے اقامتی درجے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ "یہ لچکدار نظام ماہرین کو مکمل آزادی دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ پروگرام دنیا بھر کے باصلاحیت افراد کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔”







