عالمی خبریں

مہاراشٹرا میں خودساختہ مذہبی پیشوا گرفتار، پیروکاروں کو بلیک میل کر کے نازیبا حرکات پر مجبور کرتا رہا

خلیج اردو
مہاراشٹرا، 2 جولائی 2025: بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں پولیس نے ایک خودساختہ مذہبی پیشوا "پرساد دادا عرف بابا” کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں کے موبائل فونز میں خفیہ ایپس انسٹال کر کے اُن کی نجی ویڈیوز ریکارڈ کرتا اور بعد ازاں انہیں بلیک میل کر کے نازیبا حرکات پر مجبور کرتا تھا۔

پولیس کے مطابق 29 سالہ پرساد بابا نے پونے میں ایک عمارت میں آشرم قائم کر رکھا تھا جہاں وہ مرد و خواتین پیروکاروں کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو روحانی طاقتوں کا حامل ظاہر کرتا اور پیروکاروں کو موت کی تاریخ بتا کر خوفزدہ کرتا، پھر "موت ٹالنے” کے لیے ان سے نازیبا حرکات کرواتا۔

حکام کے مطابق پرساد پیروکاروں کے موبائل میں ایک ایسی اسپائی ایپ انسٹال کرتا تھا، جو ان کی کیمرہ اور دیگر سرگرمیوں تک رسائی دیتی تھی۔ یہ ایپ عام طور پر مغربی ممالک میں والدین اپنے بچوں کی نگرانی کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کیس میں اس کا غلط استعمال کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر پرساد کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں جن میں وہ خواتین کو نہلاتے، ان کے ساتھ رقص کرتے اور ان کے جسم کو چھوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس ان ویڈیوز کی جانچ کر رہی ہے۔

ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ متاثرین کو آنکھیں بند کر کے کچھ منتر پڑھنے کا کہا جاتا، اور اسی دوران ان کے فون میں خفیہ ایپ انسٹال کر دی جاتی۔ بعد ازاں ان کی ذاتی ویڈیوز کے ذریعے انہیں بلیک میل کیا جاتا۔

اس وقت تک چار متاثرین پولیس سے رابطہ کر چکے ہیں۔
پرساد بابا پر بھارتی فوجداری قانون کی دفعہ 318 اور 75، مہاراشٹرا ہیومن سیکرافائس ایکٹ، اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ماہرین کا ردعمل اور احتیاطی تدابیر
سائبر سکیورٹی ماہر روہن نیائدھیش کے مطابق، یہ ایپس خفیہ انداز میں فون میں انسٹال کی جاتی ہیں اور صارف کو علم ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اپنے فون کو محفوظ رکھنے کے لیے اینٹی وائرس لازمی انسٹال کریں اور کسی کو فون بغیر نگرانی کے نہ دیں۔

خواتین کے حقوق کی کارکن سنگیتا تیواری نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "آسا رام اور رام رحیم جیسے کیسز کے بعد بھی خواتین ایسے خود ساختہ گروہوں کا شکار ہو رہی ہیں، یہ افسوسناک ہے۔”

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور مزید متاثرین سامنے آ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button