
خلیج اردو
ابوظبی – متحدہ عرب امارات سے امریکہ کے تعلیمی ویزا کے خواہشمند طلباء کو اب اپنی سوشل میڈیا پروفائلز کو ‘پبلک’ (عوامی) رکھنا ہوگا۔ امریکی سفارتخانے نے حالیہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ F، M، اور J نان امیگرنٹ ویزوں کے تمام درخواست دہندگان کو سوشل میڈیا پر اپنی نجی معلومات کو کھولنے کی ہدایت دی جائے گی۔
یہ قدم سوشل میڈیا ویٹنگ (جانچ پڑتال) کے سخت عمل کا حصہ ہے، جسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نافذ کیا۔ اس کا مقصد ایسے افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو امریکہ کے خلاف منفی رجحان رکھتے ہوں۔
طلباء اور تبادلہ پروگرامز کے درخواست دہندگان کی مکمل آن لائن نگرانی
18 جون کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سفارتی مشنز کو بھیجے گئے ایک خفیہ پیغام کے مطابق، اب قونصلر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر طالبعلم اور تبادلہ پروگرام کے امیدوار کی مکمل آن لائن سرگرمیوں کو جانچیں۔ اس عمل میں سوشل میڈیا کے علاوہ دیگر آن لائن ذرائع بھی استعمال کیے جائیں گے۔
امریکی مشن کے بیان میں کہا گیا ہے:
"ایک امریکی ویزا حق نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے۔”
F، M اور J ویزا کی وضاحت
F ویزا: امریکی کالج یا یونیورسٹی میں اکیڈمک تعلیم کے لیے
M ویزا: ووکیشنل یا نان اکیڈمک کورسز کے لیے
J ویزا: ایکسچینج وزیٹر پروگرامز کے لیے، جیسے تحقیق، تدریس، تربیت یا ثقافتی تبادلہ
درخواستیں دوبارہ شروع ہوں گی
امریکی سفارتخانے کے مطابق، کچھ وقت کے تعطل کے بعد اب دوبارہ F، M، اور J ویزا درخواستوں کی تقرریاں شروع کی جائیں گی۔ تاہم، زیادہ سخت چھان بین کے باعث اب ان ویزا کی درخواستوں کی تعداد محدود رکھی جائے گی۔
بیان کے مطابق:
"ہر ویزا کا اجرا قومی سلامتی کا فیصلہ ہوتا ہے، اور ہم ایسے افراد کو داخلے کی اجازت نہیں دے سکتے جو امریکہ اور اس کے شہریوں کے لیے خطرہ ثابت ہوں۔”
کن چیزوں کی جانچ ہوگی؟
نئی ہدایات کے مطابق، قونصلر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ:
سوشل میڈیا پر درخواست دہندہ کی پوسٹس، لائکس، کمنٹس دیکھیں
کسی بھی منفی یا متنازع مواد کی نشاندہی کریں
گوگل یا دیگر سرچ انجنز سے درخواست دہندہ کی مکمل آن لائن موجودگی کو پرکھیں
ترجیح کس کو دی جائے گی؟
وہ غیر ملکی ڈاکٹرز جو تبادلہ پروگرام کے تحت امریکہ میں خدمات انجام دیں گے
وہ طالبعلم جن کی یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلباء کی تعداد 15 فیصد سے کم ہو
یہ فیصلہ امریکہ میں نیشنل سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں لیا گیا ہے، اور اس کا مقصد ویزا دینے سے پہلے ہر ممکن احتیاطی جائزہ لینا ہے۔







