
خلیج اردو
دمشق، 5 جولائی
شام میں ایک نئے قومی نشان کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا گیا ہے، جسے صدر احمد الشرع نے متحد اور ناقابل تقسیم شام کی علامت قرار دیا ہے۔ یہ تاریخی اعلان دمشق کے صدارتی محل میں ایک پروقار تقریب کے دوران کیا گیا، جہاں صدر الشرع نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "آج ہم جو شناخت متعارف کروا رہے ہیں، وہ شام کے نئے تاریخی مرحلے کی عکاسی کرتی ہے۔”
نئے نشان کی بنیاد ایک سنہری عقاب پر رکھی گئی ہے، جو طاقت، عزم، تیز رفتاری، درستگی اور جدت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ عقاب سابقہ قومی نشان "ہاک” کی جگہ لے چکا ہے۔ عقاب کے اوپر نمایاں تین ستارے ہیں، جنہیں صدر نے عوام کی آزادی کی علامت قرار دیا۔
صدر احمد الشرع کا کہنا تھا کہ نیا قومی نشان صرف ایک علامتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئی قومی روح اور شامی عوام کے اعتماد کی تجدید ہے۔ ان کے بقول یہ نشان آئندہ نسلوں کے لیے فخر اور وحدت کا نشان ہوگا۔
نئے قومی نشان کی نقاب کشائی کے موقع پر شام کے بڑے شہروں میں جشن کا سماں رہا، اہم چوراہوں پر قومی ترانے بجائے گئے اور شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔







