
خلیج اردو
لاہور: سینئر اداکار توقیر ناصر نے موجودہ شوبز انڈسٹری میں خوبصورتی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اداکاری میں گرتے ہوئے معیار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی اداکارائیں چہرے کی سرجری کرا کر اپنے نقوش کو مصنوعی بنا رہی ہیں، اور ان کے چہرے ’ربڑ‘ جیسے دکھائی دیتے ہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے توقیر ناصر نے کہا کہ انہیں پاکستانی اداکاراؤں میں شمیم آرا اور زیبا بہت پسند تھیں، جبکہ بولی وُڈ میں مادھوری ڈکشٹ کو وہ دل سے سراہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پرانے دور کے فنکار زیادہ مخلص اور پیشہ ور ہوا کرتے تھے۔ "اُس زمانے میں کردار نگاری سنجیدہ انداز میں کی جاتی تھی، اور ایک کردار کے حلیے سے ہی اس کی کیفیت واضح ہو جاتی تھی۔ آج کے دور میں ہر اداکارہ صرف خوبصورت نظر آنے کے چکر میں ہے۔”
توقیر ناصر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آج کل ڈراموں میں سوتی ہوئی خاتون بھی مکمل میک اپ میں دکھائی دیتی ہے، اور ایک باورچی خانے میں کام کرنے والی عورت بھی گلیمرس ہوتی ہے، جس سے حقیقت کا عنصر غائب ہو گیا ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ہدایتکاروں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرانے وقتوں میں ہدایتکار اداکاروں کے ساتھ موجود ہوتے تھے، کردار کو سمجھاتے اور رہنمائی کرتے تھے، جبکہ آج کے ہدایتکار صرف مانیٹر کے پیچھے بیٹھے ہوتے ہیں۔
چہرے کی سرجری پر گفتگو کرتے ہوئے توقیر ناصر نے کہا:
"میرے وقت کی اداکارائیں زیادہ سے زیادہ فیشل کرواتی تھیں، جبکہ آج کی اداکارائیں چہرے کی سرجری کرا کے اپنے خدوخال ہی بگاڑ دیتی ہیں، اُن کے چہرے ربڑ کی طرح لگنے لگتے ہیں۔”
اداکار کی یہ گفتگو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے، جہاں کچھ صارفین ان کے خیالات سے متفق نظر آتے ہیں، جبکہ کچھ نے انہیں "پرانے وقتوں کا سوچ” قرار دیا۔ تاہم یہ بحث ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر گئی ہے کہ شوبز میں اصل اہمیت کردار کو دینی چاہیے یا صرف خوبصورتی کو؟






