متحدہ عرب امارات

عربوں کی زبان کہاں ہے؟ متحدہ عرب امارات میں شہری ریستورانوں میں عربی مینو کی عدم موجودگی پر سراپا احتجاج

خلیج اردو
دبئی – متحدہ عرب امارات میں نوجوان عرب شہریوں کی جانب سے ریستورانوں اور کیفے میں صرف انگریزی زبان میں مینو پیش کیے جانے کے خلاف آواز بلند کی جا رہی ہے۔ اس مہم کا آغاز ان اماراتیوں نے کیا جو معمر شہریوں کے لیے عربی زبان کی اہمیت پر زور دیتے تھے، مگر اب یہ مطالبہ نوجوانوں کا ایک وسیع تر ثقافتی مطالبہ بن چکا ہے۔

یاسر الزعابی، ایک 35 سالہ اماراتی باشندے نے کہا: ’’یہ نہیں کہ میں انگریزی نہیں پڑھ سکتا، مگر جب میں اپنے ملک میں مینو کھولتا ہوں اور عربی نہیں دیکھتا، تو میں خود کو کمتر محسوس کرتا ہوں، جیسے اپنے ہی کیفے میں مہمان ہوں۔‘‘

یہ نوجوان شہری محض زبان فہمی کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ان کے نزدیک یہ شناخت، وقار اور نمائندگی کا معاملہ ہے۔ ابوظبی کی رہائشی 28 سالہ فاطمہ شمس نے بتایا کہ انہوں نے ایک کیفے کی انسٹاگرام اسٹوری دیکھ کر ان سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ وہ عربی مینو شامل کریں۔ جواب میں کیفے نے بتایا کہ وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔ فاطمہ کہتی ہیں کہ یہ صرف زبان کا معاملہ نہیں، بلکہ ثقافتی شناخت اور احترام کی بات ہے: ’’ہمیں اپنے ملک میں اپنی زبان اور ثقافت کی نمائندگی کا حق ہے۔‘‘

فاطمہ نے مقامی کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی برانڈنگ میں عربی زبان کو ترجیح دیں، کیونکہ دنیا بھر میں زبان اور ثقافت کو برانڈ کی شناخت کا حصہ سمجھا جاتا ہے، تو پھر متحدہ عرب امارات میں ایسا کیوں نہ ہو؟

اگرچہ دبئی میں 2015 سے ریستورانوں کے لیے عربی مینو کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور درجنوں ریستورانوں پر جرمانے بھی عائد کیے گئے، پھر بھی اب تک کئی ریستوران، خصوصاً سیاحتی علاقوں میں، عربی زبان کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ 2008 میں 900 سے زائد ریستورانوں کو وارننگ دی گئی تھی۔

شارجہ کی 22 سالہ طالبہ سلمیٰ نور نے کہا: ’’میں ہر وقت انگریزی میں آرڈر کرتی ہوں، مسئلہ وہ نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب مینو پر عربی نہیں ہوتی تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم یہاں اہم ہی نہیں۔‘‘

یہ نئی تحریک صرف پرانے لوگوں کی سہولت نہیں بلکہ ثقافتی بیداری کا مظہر بن چکی ہے۔ ان کے نزدیک عربی زبان کا مینو کوئی ’فیشن‘ نہیں بلکہ ایک بنیادی حق ہے، جو ہر کاروبار میں واضح طور پر نظر آنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button