
خلیج اردو
دبئی:متعدد اماراتی دفاتر اپنی دلکش اور انسٹاگرام پر نمایاں ہونے والی سجاوٹ پر فخر کرتے ہیں، مگر ملازمین کا کہنا ہے کہ محض خوبصورتی ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کافی نہیں۔ عالمی شہرت یافتہ فرم "جینسلر” کی 2025 کی تازہ ترین گلوبل ورک پلیس رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے صرف 31 فیصد ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کے موجودہ دفاتر ان کی مکمل پیداواری صلاحیت کو فروغ دیتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ جدید دفاتر میں کام کرنے کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں۔ نہ تو پر سکون گوشے دستیاب ہیں اور نہ ہی میٹنگز کے لیے موزوں جگہ۔ دفاتر کی تعمیر اور ڈیزائن میں اکثر ظاہری شکل و صورت پر زور دیا جاتا ہے جبکہ عملی تقاضے نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں ملازمین کی یہ ترجیحات سامنے آئیں:
-
خاموش اور یکسوئی کے حامل زونز کی فراہمی تاکہ توجہ مرکوز رکھی جا سکے
-
تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے باہم تعاون پر مبنی ماحول
-
آرام دہ فرنیچر، مناسب روشنی اور سبز مقامات کی دستیابی
ماہرین کے مطابق، موجودہ وقت میں دفاتر کو ایسا ہونا چاہیے جو نہ صرف خوبصورت بلکہ بامقصد، آرام دہ اور مؤثر انداز میں تیار ہوں تاکہ ملازمین بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔







