سپورٹس

کیا بھارت شدید دباؤ کے بعد ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر سکتا ہے؟

خلیج اردو
ایشیا کپ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان 14 ستمبر کو متحدہ عرب امارات میں ہونے والا میچ سیاسی میدان میں شدید ہلچل کا باعث بن چکا ہے۔ بھارتی اپوزیشن لیڈر اسد الدین اویسی نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب تجارتی تعلقات، پانی کے معاہدے اور سفارتی روابط منقطع ہیں تو پھر کرکٹ کھیلنے کی اجازت کیسے دی جا رہی ہے۔

ایشیا کپ ٹی 20 ٹورنامنٹ 9 ستمبر سے 28 ستمبر تک یو اے ای میں منعقد ہوگا، جس میں بھارت اور پاکستان کو یو اے ای اور عمان کے ساتھ ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ بھارت میں ہونا تھا، مگر مئی میں دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ عسکری تصادم اور پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث اسے یو اے ای منتقل کر دیا گیا۔

اویسی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "جب پاکستان کے جہاز ہماری فضائی حدود میں داخل نہیں ہو سکتے، ان کی کشتیاں ہماری حدود میں نہیں آ سکتیں، تجارت بند ہے، تو آپ کرکٹ میچ کیسے کھیلیں گے؟ جب ہم پانی روک رہے ہیں تو پھر خون اور پانی اکٹھے کیسے بہیں گے؟”

اس معاملے پر بھارت کے اندر شدید عوامی اور سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض حلقے سابق بھارتی کپتان ساروو گنگولی کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں جنہوں نے کہا کہ "دہشتگردی نہیں ہونی چاہیے، مگر کھیل جاری رہنے چاہییں” لیکن متاثرہ خاندانوں نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔

کئی مبصرین کا خیال ہے کہ بھارتی حکومت عوامی دباؤ کے پیش نظر اس میچ پر دوبارہ غور کر سکتی ہے۔ بھارتی صحافی نکھل ناز نے کہا کہ "ابھی میچ میں تقریباً ڈیڑھ ماہ باقی ہے، اس دوران حکومت کا مؤقف تبدیل ہو سکتا ہے، یا میچ ملتوی ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔”

دوسری جانب سینیئر صحافی سمپ راجگرو نے کہا کہ "ہر بار جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی ہوتی ہے تو نشانہ صرف کرکٹ ہی بنتی ہے۔ ہم ہاکی، والی بال، اور دیگر کھیلوں میں پاکستان کے خلاف کھیلتے ہیں تو پھر کرکٹ پر پابندی کیوں؟”

پاکستانی تجزیہ کار شاہد ہاشمی کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے کرکٹ میچ کھیلنے سے انکار کیا تو اس کے 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کے عزائم کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے چارٹر میں شامل ہے کہ تمام رکن ممالک کے ساتھ کھیلنا اور انہیں مدعو کرنا ضروری ہے، اگر بھارت پاکستان کے ساتھ ایشیا کپ میں نہیں کھیلتا تو اس کا اثر مستقبل میں بھارت کی اولمپکس میزبانی کی خواہش پر پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button