متحدہ عرب امارات

27 سال کی شدید ترین بارش: فجیرہ نے 3 سال قبل آج کے دن سیلاب سے کیسے مقابلہ کیا

خلیج اردو
آج سے تین سال قبل فجیرہ میں غیر معمولی بارشوں کے بعد شدید سیلاب آیا جس نے رہائشی علاقوں کو گھٹنوں سے اوپر پانی میں ڈبو دیا۔ یہ گزشتہ 27 سال کے دوران ریکارڈ کی جانے والی سب سے شدید بارش تھی جس نے فجیرہ اور شمالی امارات کو بری طرح متاثر کیا۔

ملک کی قیادت نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر فوج کو امدادی کاروائیوں میں شامل ہونے کا حکم دیا۔ اچانک آنے والے سیلاب کے بعد تقریباً 900 افراد کو ریسکیو کیا گیا جبکہ 3,897 افراد کو فجیرہ اور شارجہ میں عارضی شیلٹرز میں منتقل کیا گیا۔

دو دن تک مسلسل بارش کے بعد فجیرہ پورٹ اسٹیشن پر 255.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو کہ جولائی کے مہینے میں متحدہ عرب امارات میں اب تک کی سب سے زیادہ بارش تھی۔ دوسرے نمبر پر مسافی میں 209.7 ملی میٹر جبکہ تیسرے نمبر پر فجیرہ ایئرپورٹ پر 187.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

شدید بارشوں اور سیلاب نے انفراسٹرکچر کو بری طرح متاثر کیا۔ شہری ہوٹلوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے جہاں طلب بڑھنے کے باعث کئی ہوٹلوں نے کرایوں میں اضافہ کر دیا تھا۔

سیلاب کے بعد کے دنوں میں سڑکوں پر گاڑیاں الٹی پڑی نظر آئیں جو پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئی تھیں۔ بحالی کی کمپنیوں کو ان گاڑیوں کو نکالنے میں خاصی مشقت کرنی پڑی۔

وزارت داخلہ نے تصدیق کی تھی کہ سیلاب کے نتیجے میں ایشیائی نژاد سات افراد جاں بحق ہوئے۔ وزارت کے فیڈرل سنٹرل آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر جنرل ڈاکٹر علی سالم الطنیجی نے اپنے بیان میں کہا کہ "ہمیں افسوس کے ساتھ اطلاع دینا پڑ رہی ہے کہ امارات میں آنے والے سیلاب کے باعث چھ ایشیائی افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔” وزارت نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت بھی کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button