عالمی خبریں

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں تباہ کن بارشیں اور سیلاب، اموات 300 سے تجاوز کر گئیں

خلیج اردو
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں، بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے، درجنوں زخمی اور کئی تاحال لاپتہ ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی جہاں قدرتی آفات نے 220 زندگیاں نگل لیں۔ سیلابی ریلے سے پیربابا مزار کی جامع مسجد ملبے اور کیچڑ سے بھر گئی۔ مانسہرہ میں سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 20 افراد جاں بحق ہوئے، ایک بدنصیب شخص کے پانچ بچے اور بیوی ریلے میں بہہ گئے۔ باجوڑ میں 21 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ بٹگرام میں ملبے سے ایک 8 سالہ بچے کو زندہ نکال لیا گیا۔

سوات میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد مزید دو لاشیں ملنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی جبکہ متعدد تاحال لاپتہ ہیں۔ مینگورہ سے گزرنے والی ندی کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا اور ریلے رابطہ پلوں تک جا پہنچے۔

آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں سیلابی ریلوں نے دریا پر بنے 6 رابطہ پل بہا دیے، مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق ہوئے۔ مظفرآباد میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔

گلگت بلتستان میں بھی سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی، اسکردو میں 5 پل دریا برد ہوگئے۔ چلاس کے اوچھار نالے میں کئی افراد بہہ گئے اور 10 افراد جاں بحق ہوئے۔

این ڈی ایم اے نے وارننگ جاری کی ہے کہ بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے سے مزید جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے، متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہیں تاہم شدید تباہی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button