
خلیج اردو
دبئی: 14 ستمبر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ میچ کے دوران ہونے والے ’ہینڈ شیک تنازع‘ پر نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ کو ٹاس سے صرف چار منٹ قبل بتایا گیا کہ دونوں ٹیموں کے کپتان ہاتھ نہیں ملائیں گے۔ یہ ہدایت ایشین کرکٹ کونسل کے وینیو منیجر نے بھارتی بورڈ کی جانب سے دی، جسے بھارتی حکومت کی منظوری بھی حاصل تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اس فیصلے پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے آئی سی سی میں شکایت درج کرائی۔ پی سی بی کا مؤقف ہے کہ میچ ریفری کو چاہیے تھا کہ وہ اس غیر معمولی صورتحال سے فوری طور پر آئی سی سی کو آگاہ کرتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ریفری کا کہنا ہے کہ وقت نہ ہونے کے باعث وہ آئی سی سی کو اطلاع نہیں دے سکے اور کپتان سلمان آغا کو صرف اس لیے بتایا تاکہ کسی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
پی سی بی نے مؤقف اختیار کیا کہ ریفری کا رویہ غیر جانبدار نہیں رہا اور یہ عمل کرکٹ کی روح کے خلاف ہے۔ بورڈ نے پائیکرافٹ کو بقیہ میچز سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور یہاں تک دھمکی دی کہ اگر انہیں ہٹایا نہ گیا تو پاکستان ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو سکتا ہے۔
اس معاملے پر میچ ریفری نے پاکستان ٹیم مینجمنٹ اور کپتان سے ملاقات میں وضاحت دی۔ پی سی بی کا دعویٰ ہے کہ پائیکرافٹ نے معافی مانگی، تاہم ذرائع کے مطابق یہ محض ’غلط فہمی اور کمیونیکیشن گیپ پر افسوس‘ کا اظہار تھا، باضابطہ معافی نہیں۔
پی سی بی کی جانب سے درج شکایت کے جواب میں آئی سی سی نے کہا کہ مکمل تحقیقات کے بعد یہ طے پایا ہے کہ میچ ریفری نے اپنے اختیارات کے مطابق درست فیصلہ کیا اور ان کے خلاف کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔






