
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں وزٹ ویزا کے لیے متعارف کرائی گئی کم از کم تنخواہ کی شرط کو ماہرین سفری صنعت نے مثبت قدم قرار دیا ہے، جس سے حقیقی وزٹرز کی آمد میں اضافہ ہوگا اور بھاگ جانے (Absconding) کے واقعات میں کمی آئے گی۔
وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، کسٹمز اور پورٹ سکیورٹی (ICP) کے مطابق اب وہ مقیم افراد جو ماہانہ 4 ہزار درہم کماتے ہیں، اپنے قریبی رشتہ داروں کو بلا سکیں گے۔ 8 ہزار درہم ماہانہ آمدن والے دوسرے اور تیسرے درجے کے رشتہ داروں کو، جبکہ 15 ہزار درہم کمانے والے دوستوں کو اسپانسر کر سکیں گے۔
سیمیر بگل، چیف بزنس آفیسر کلیر ٹرپ عربیہ، نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے افراد کو براہ راست امیگریشن کے ذریعے ویزا اپلائی کرنے کی سہولت ملے گی اور ٹریول ایجنسیوں پر انحصار کم ہوگا، جو اکثر خدشات کے باعث درخواستیں مسترد کر دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صرف حقیقی وزٹرز ہی آئیں، جس سے ویزا کی خلاف ورزیوں اور بھاگ جانے کے کیسز کم ہوں گے۔
فروس خان، آپریشنز مینیجر عربین بزنس سینٹر دبئی، نے کہا کہ نئی پالیسی سے بڑی تعداد میں لوگ یو اے ای آئیں گے، کیونکہ اب 4 ہزار درہم کمانے والے بھی اپنے قریبی رشتہ داروں کو اسپانسر کر سکیں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام خاندانوں کو ملانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، مواقع تلاش کرنے اور کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے بھی آسانی فراہم کرے گا۔
ادھر عدیل تنریوردی، سی ای او ٹرپ وینتورا ٹورازم، نے کہا کہ نئی ویزا پالیسی سے شفافیت بڑھے گی، غیر قانونی قیام کے واقعات کم ہوں گے اور یو اے ای کاروبار اور سیاحت کا مزید پرکشش مرکز بنے گا۔







