
خلیج اردو
واشنگٹن: غزہ امن منصوبے کے حوالے سے حساس سطح کی بات چیت جاری ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ واشنگٹن میں اس منصوبے کے تناظر میں اہم سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور عالمی شراکت داروں سے مسلسل مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن منصوبے پر پیشرفت کے لیے خاموش سفارتکاری کی جا رہی ہے اور یہ معاملہ نہایت نازک ہے، جس میں جلدبازی مناسب نہیں۔ فیصلے براہِ راست عالمی امن اور خطے کے استحکام سے جڑے ہوئے ہیں اور حماس کے ساتھ مذاکراتی امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
تاہم حماس فی الحال ہتھیار ڈالنے یا غیر مسلح ہونے پر تیار نہیں اور عالمی فورس کی غزہ میں تعیناتی کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، حماس ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کر دے گا، جس میں اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے جبکہ فلسطینیوں کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔







