خلیج اردو: یو اے ای نے مملکت میں مقیم افراد میں کورونا کے خلاف جسمانی مدافعت بڑھانے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت جو افراد کوروناویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا چکے ہیں، انہیں دوسری خوراک لگوانے کے چھ ماہ بعد ایک اورخوراک دی جائے گی ۔یو اے ای ہیلتھ سیکٹر کی سرکاری ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحوسنی نے بتایا ہے کہ ویکسین کی تیسری خوراک زیادہ تر بزرگ افراد اور دائمی امراض کے شکار لوگوں کو لگائی جائے گی۔
اس فیصلے کا مقصد لوگوں کو کورونا کی وبا سے ممکنہ حد تک محفوظ رکھنا ہے۔ بین الاقوامی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ کورونا ویکسین کی لگائی گئی دو خوراکیں چھ ماہ تک جسم میں مدافعت قائم رکھتی ہیں۔ اس کے بعد مدافعت میں کمی آنے لگتی ہے جس کو دوبارہ بڑھانے کے لیے بزرگ افراد اور دائمی امراض کے شکار لوگوں کو تیسری خوراک کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔
کیونکہ ان میں مدافعت تیزی سے ختم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
ڈیلی گلف اُردو کے مطابق اماراتی حکام کے مطابق فی الحال بہت کم لوگوں نے ویکسین کی تیسری خوراک لگوائی ہے۔ جس سے ان کے جسم میں کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز پیدا ہو چکی ہیں۔ قصیص کے آسٹر ہسپتال کے معالج ڈاکٹر رمیش نے بتایا کہ اینٹی باڈیز کو طاقتور بنانے کے لیے بوسٹر شاٹ کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ویکسین کی تیسری خوراک لگوا لینے سے اینٹی باڈیز دوبارہ پوری قوت سے کام کرنے لگتی ہیں۔
اسی وجہ سے غیر فعال ویکسینز مثلاً سینو فارم تیسری خوراک کے طور پر دی جا رہی ہے۔ بزرگوں اور دائمی امراض کے شکار افراد کو ہسپتال جانے سے بچت ہو جاتی ہے۔ اس وقت امارات میں 73 فیصد بالغ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔واضح رہے کہ امارات میں ویکسین لگانے کی کم از کم عمر 16 سال مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ بزرگوں کی 80 فیصد آبادی بھی ویکسین لگوا چکی ہے۔







