
دبئی: ابوظبی کی کلسٹر اسٹریٹیجی کے تحت 2045 تک 300 ارب درہم کے معاشی حجم اور 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہنرمند روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ابوظبی انویسٹمنٹ آفس (ADIO) کے ایگزیکٹو احمد صبرا کے مطابق یہ حکمتِ عملی امارت کی طویل المدتی معاشی اہلیت، روزگار اور عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔
سرمایہ کی مقدار کے بجائے نتائج پر توجہ
پہلے سرمایہ کاری کی دوڑ میں توجہ اس بات پر ہوتی تھی کہ کتنا سرمایہ کسی ملک یا شہر میں آیا، تاہم ابوظبی نے اپنی پالیسی کا رخ بدل دیا ہے۔ اب مقصد یہ ہے کہ آیا یہ سرمایہ حقیقی معیشت میں کتنی پیداوار، روزگار اور صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔ صنعتی حکمت عملی کے تحت صرف مینوفیکچرنگ سیکٹر سے 2031 تک 172 ارب درہم کے معاشی کردار کا ہدف رکھا گیا ہے۔
کلسٹر ماڈل کی بنیاد
ابوظبی نے کلسٹر پر مبنی ماڈل اپنایا ہے، جس میں پالیسی، ریگولیشن، انفراسٹرکچر اور مراعات کو مخصوص شعبوں کے گرد ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد سرمایہ کاروں کے لیے عملی خطرات کم کرنا اور اعلیٰ ویلیو سرگرمیوں کو امارت کے اندر مضبوطی سے قائم کرنا ہے۔
ترقی کی رفتار بڑھانے والے شعبے
اگلے مرحلے میں ابوظبی کی توجہ جدید مینوفیکچرنگ، اسمارٹ و خودکار نقل و حرکت، لائف سائنسز، زرعی و آبی ٹیکنالوجیز، اور مالی و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مرکوز ہے۔ ان کلسٹرز کے ذریعے 2045 تک تقریباً 300 ارب درہم جی ڈی پی اور 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہنرمند نوکریوں کی تخلیق متوقع ہے۔
فنٹیک اور ڈیجیٹل سرمایہ کاری پروگرام (FIDA) کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس کے ذریعے 56 ارب درہم کا معاشی حصہ اور تقریباً 8 ہزار نوکریاں متوقع ہیں، جن میں ڈیجیٹل اثاثہ جات انفراسٹرکچر، ٹرانزیشن فنانس اور پورٹیبل سیونگز جیسے شعبے شامل ہیں۔
نوکریاں اور صلاحیت کی تعمیر مرکزی ہدف
ابوظبی کا مقصد صرف سرمایہ کار لانا نہیں بلکہ ایسے ادارے قائم کرنا ہے جو مقامی طور پر انجینئرز، محققین اور ماہرین کے لیے پائیدار مواقع پیدا کریں۔ اسی مقصد کے تحت ابوظبی لوکل کنٹینٹ پروگرام اور تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داریوں کے ذریعے افرادی قوت کی تربیت پر زور دیا جا رہا ہے۔
بدلتی ہوئی سرمایہ کار پروفائل
گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں اب امارات میں آنے والے سرمایہ کار طویل المدتی منصوبوں، جدید مینوفیکچرنگ، اے آئی و ڈیٹا انفراسٹرکچر اور لائف سائنس پلیٹ فارمز پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، جب کہ عالمی اثاثہ جاتی ادارے بھی مستقل بنیادوں پر اپنا وجود قائم کر رہے ہیں۔
عالمی غیر یقینی صورتحال میں مضبوط حکمت عملی
جغرافیائی کشیدگی اور مالیاتی اتار چڑھاؤ کے دوران ابوظبی کا فوکس استحکام، پیش گوئی اور مؤثر عمل درآمد پر ہے۔ کلسٹر پلیٹ فارمز سرمایہ کاروں کو واضح فریم ورک اور کم رکاوٹ کے ساتھ کاروبار بڑھانے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق مستقبل میں ابوظبی ہر شعبے میں مقابلے کے بجائے انہی شعبوں پر توجہ دے گا جہاں وہ عالمی سطح پر قیادت کا کردار ادا کر سکے، اور اس مقصد کے لیے صنعت، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری جاری رہے گی۔



