
ٹرمپ انتظامیہ نے ویزا بانڈ پالیسی کے دائرہ کار میں بڑی توسیع کرتے ہوئے ان ممالک کی تعداد تقریباً تین گنا بڑھا دی ہے، جن کے شہریوں کو امریکا میں داخلے کے لیے 5 ہزار سے 15 ہزار ڈالر تک کا بانڈ جمع کرانا ہوگا۔ سات نئے ممالک شامل کرنے کے چند دن بعد مزید 25 ممالک کو فہرست میں شامل کیا گیا، جس سے مجموعی تعداد 38 ہوگئی۔ نئی پالیسی 21 جنوری سے نافذ العمل ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ویزا بانڈ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر ثابت ہوا ہے کہ مخصوص ممالک کے شہری ویزا کی مدت سے زیادہ قیام نہ کریں۔ بانڈ جمع کرانا ویزا ملنے کی ضمانت نہیں، تاہم ویزا مسترد ہونے یا مقررہ مدت کے اندر واپسی کی صورت میں رقم واپس کر دی جائے گی۔
اس پالیسی کے تحت زیادہ تر افریقی ممالک کے ساتھ لاطینی امریکا اور ایشیا کے چند ممالک بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کو امریکا میں داخلے کے قواعد مزید سخت کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس میں انٹرویو لازمی قرار دینا، کئی سال کی سوشل میڈیا ہسٹری اور سابقہ سفری و رہائشی تفصیلات جمع کرانا بھی شامل ہے۔
فہرست میں شامل ممالک کے شہریوں کے لیے یہ لازم ہوگا کہ وہ امریکا میں داخلے اور روانگی کے لیے صرف مخصوص ہوائی اڈوں کا استعمال کریں، جن میں بوسٹن لوگن انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔ اس کی خلاف ورزی کی صورت میں داخلہ مسترد یا روانگی کا ریکارڈ متاثر ہو سکتا ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق ویزا شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں معاملہ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کو بھیجا جائے گا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ بانڈ کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ خلاف ورزی کی مثالوں میں ویزا کی مدت سے زیادہ قیام، بغیر روانگی کے قیام جاری رکھنا یا اسٹیٹس تبدیل کرنے کے لیے درخواست دینا شامل ہیں۔
ویزہ بانڈ کی تفصیلی شرائط ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کے فارم I-352 اور سرکاری سفری ویب سائٹ پر درج ہیں اور مقررہ قواعد کی پاسداری کی صورت میں بانڈ خودکار طور پر منسوخ کر کے رقم واپس کر دی جائے گی۔






