پاکستانی خبریںسٹوری

میڈیا کو سانس لینے دی: میڈیا اور حکومت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔لیکن ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ہر حکومت میڈیا سے نالاں نظر آتی ہے

۔تمام جماعتیں اپوزیشن کے دور میں چکاچوند کیمروں کے ذریعے ہی اپنا پیغام عوام تک پہنچانے کا اہتمام کرتی ہیں لیکن وہی جماعتیں جب برسراقتدار آتی ہیں تو سب سے پہلے یہی روشنیاں گل کرنے کی کوشش کرتی ہیں

تحریر۔پیر فاروق بہاوالحق شاہ۔
میڈیا اور حکومت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔لیکن ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ہر حکومت میڈیا سے نالاں نظر آتی ہے اور ہر دور کا میڈیا بھی حکومتی رویے سے شاکی دکھائی دیتا ہے۔تمام جماعتیں اپوزیشن کے دور میں چکاچوند کیمروں کے ذریعے ہی اپنا پیغام عوام تک پہنچانے کا اہتمام کرتی ہیں لیکن وہی جماعتیں جب برسراقتدار آتی ہیں تو سب سے پہلے یہی روشنیاں گل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔تحریک انصاف کی ساری جدوجہد ہی زرائع ابلاغ کے ذریعے ممکن ہوئی ہے میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم سے جس طرح تحریک انصاف کا امیج تشکیل دیا گیا اس کی ماضی قریب میں مثال نہیں ملتی۔جناب عمران خان کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنے کا سہرا بھی میڈیا کے سر ہے۔

ان کے خصوصیات اور ویژن کے حوالے سے ٹی وی چینلز پر ایسے ایسے قصیدے پڑھے گئے کہ کئ خوش گمان احباب حقیقت میں یہ سمجھ بیٹھے کہ عمران خان ہی اس ملک کا نجات دہندہ ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن وقت کا پہیہ ایسا گھوما اور حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ وہی تحریک انصاف جو میڈیا کی سیڑھی کے زریعے اقتدار تک پہنچی تھی ،اسی میڈیا کے منہ پر پابندیوں کی ٹیپ چپکا رہی ہے۔۔ذرائع ابلاغ کے نمائندہ افراد آزادی اظہار راے خلاف قانون سازی پر سراپا احتجاج ہیں جبکہ عالمی صحافتی تنظیمیں اور ملک کی سیاسی قیادت بھی انکے ہم آواز ہے۔

متعدد قائدین جنمیں بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان بنفس نفیس صحافیوں کے کیمپ میں تشریف لاے۔یادش بخیر اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف بھی احتجاجی کیمپ کی زینت بنے جن کی جماعت کے دور حکومت میں نجم سیٹھی جیسے سینئر صحافیوں کو جیل یاترا کرنی پڑی،روزنامہ جنگ پر ایسا کڑا وقت آیا کہ یہ اخبار محض ایک صفحہ تک محدود ہوتا چلا گیا۔لیکن پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی قوت پاکستان پیپلز پارٹی کا آزادی صحافت کے حوالے سے کردار نسبتاً بہتر رہا ہے۔

پیپلزپارٹی نے ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسی کے برعکس میڈیا کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھا۔محترمہ بےنظیر بھٹو،جناب آصف علی زرداری اور سید یوسف رضا گیلانی کے متعلق کیا کیا کچھ نہیں کہا گیا اور کیا کچھ نہیں لکھا گیا۔لیکن ان کی طرف سے حرف شکایت بھی زبان پر نہیں لایا گیا۔جس طرح مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے تلخ ماضی کو دفن کرتے ہوئے میثاق جمہوریت کی بنیاد رکھی اسی طرح تمام سیاسی اشرافیہ کو میڈیا کے حوالے سے بھی اپنا ماضی دفن کرکے نیا بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ایک جمہوری حکومت کے دور میں صف اول کے صحافیوں کو آف آئر کرنا کسی بھی طور اچھا اقدام نہیں۔یہ الگ بات ہے کہ قومی چینلز کی سکرین سے ہٹاے گیے صحافی بین الاقوامی میڈیا پر پاکستان کا مقدمہ بڑی خوبصورتی سے پیش کر رہے ہیں۔پاکستانی صحافت کے تمام نام محب وطن ہیں۔۔

انکے نقطہ نظر یا انداز بیان سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن انکی حب الوطنی پر شک نہیں کہا جا سکتا۔اس لیے میں پوری ایمانداری سے یہ سمجھتا ہوں کہ صحافیوں کے ساتھ یہ رویہ کسی طور بھی مناسب نہیں۔۔جناب وزیر اعظم جس شدومد سے ذرائع ابلاغ کی تربیت میں یکسو نظر آتے ہیں اس سے نصف توجہ مہنگائ اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں پر دیتے تو شائد عوام کے دکھوں کا مداوا ہو جاتا۔وزیر اعظم کو اپنے ارد گرد نظر ڈالنی چاہیے اور ایسے مشیروں سے ہوشیار رہنا چاہے جو وزیر اعظم کی توجہ اصل عوامی مسائل سے ہٹا کر نان ایشوز کی طرف مبذول کراتے ہیں۔۔حکومت کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ کسی بھی دور میں میڈیا کا گلا نہیں دبایا جا سکا۔سنسر شپ،اور اشتہارات کی آڑ میں بلیک میلنگ کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

اپنی نااہلیوں اور نالائقیوں کا ملبہ اداروں پر ڈال کر خود بری الزمہ ہونے کا سلسلہ بھی اب رک جانا چاہیے۔تحریک انصاف کو بطور سیاسی جماعت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے سبق سیکھنا چاہے،ایک زمانے میں سکھوں کی لسٹیں بھارت کو دینے کے الزام میں پیپلز پارٹی کو غدار قرار دیا گیا،لیکن پھر بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں ہوے،یہاں تک کہ میثاق جمہوریت ہوا،میاں نواز شریف کالا کوٹ پہن کر جس جماعت کے خلاف سپریم کورٹ تشریف لے گئے پھر اسی جماعت کے ساتھ پی ڈی ایم میں اکٹھے بھی ہوگیے۔اب تحریک انصاف کو سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوے بات چیت کے دروازے کھولنے پڑیں گے۔پکڑ لو اور مارو کی سیاست دفن کرنا ہوگی۔اسی سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوے میڈیا کی نمائندہ تنظیموں سے بات کر اس الجھن کو سلجھانا ہوگا۔

ارتحالات۔
گزشتہ چند ہفتوں میں پے در پے تین ایسے افراد اس دنیا سے رخصت ہوئے جن کے جانے سے ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ان میں سب سے پہلا نام سید علی گیلانی کا ہے۔سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ان عظیم رہنماؤں میں سے ایک تھے جو آزادی کشمیر کے متعلق ایک واضح اور دوٹوک موقف رکھتے تھے۔ان کی ساری زندگی جدوجہد سے عبارت تھی۔کردار کی پختگی کا یہ عالم تھا کہ بھارت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود نہ انہیں خرید سکا اور نہ ہی جھکا سکا۔سید علی گیلانی ایک محب وطن کشمیری رہنما اور پاکستان سے محبت کا لازوال جذبہ رکھنے والی شخصیت تھے۔ان کی وفات سے تحریک آزادی کشمیر کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور پاکستان اپنے ایک مخلص اور بہترین دوست سے محروم ہو گیا ہے۔

طارق اسماعیل ساگر۔
گزشتہ دنوں ہی معروف صحافی ناول نگار اور تخلیق کار طارق اسماعیل ساگر بھی بی دا فانی سے دارالبقاء کی طرف رحلت فرما گئے۔آپ 70 سے زائد کتب کے مصنف تھے۔ان کی تحریروں سے پاکستان سے محبت کی خوشبو آتی تھی۔انہوں نے بعض ایسے ناول تخلیق کیے جن کی یاد ہمیشہ باقی رہے گی۔بلاشبہ اردو ناول نگاری کا ایک بڑا معتبر نام تھے۔ان کی وفات سے اردو صحافت ایک قابل صافی سے محروم ہوگئی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی۔
ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی ایک ماہر تعلیم دانشور سیرت نگار اور شاعر تھے۔وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ہے ریٹائرمنٹ کے بعد کئ نجی یونیورسٹیوں کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہے۔کی کتب کے مصنف تھے۔وہ دنیا کے شور و غوغا سے دور تحقیق و تصنیف کے آدمی تھے ۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر وہ ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتے تھے۔ان کے دروازے طلباء کے لئے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔آپ کی وفات سے پاکستان ایک عظیم علمی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔اللہ کریم سب مرحومین کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button