پاکستانی خبریںمتحدہ عرب امارات

متحدہ امارات سے پچاس ہزار پاکستانی مزدور فارغ ہونے کا انکشاف

پاکستانی بے روزگار مزدوروں کو ملک واپس بھیج دیا گیا ہے

(خلیج اردو ) متحدہ امارات سے پچاس ہزار پاکستانی مزدور فارغ ہونے کا انکشاف ہوا ہے جن کو ملک واپس بھیج دیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ کویڈ 19 کی وجہ سے پاکستانی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد اپنی نوکریوں سے فارغ کردیئے گئے ہیں جنکو واپس پاکستان بھیج دیا گیا ہے ۔

متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر غلام دستگیر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کویڈ 19 کی کرفیو کی وجہ سی بہت کمپنیاں اور دوکانیں بند ہوگئی ہے جو پاکستانی مزدوروں کی بے روزگاری کا سبب بنی ۔

متحدہ عرب امارات میں 6۔1 ملین پاکستانی آباد ہیں مگر آج انکی تعداد کم ہورہی ہے ۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی 6۔4 بلین ڈالر سالانہ پاکستان بھیج رہے تھے مگر اب اس میں 5 سے 10 فیصد تک کمی واقع ہو رہی ہے ۔

پاکستان کی آمدنی کا پچاس فیصد خلیج ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی پیدا کرتے ہیں اور اپنے ملک بھیج کر خاندان کی کفالت کرتے ہیں جس میں کویڈ 19 کے بعد مسلسل کمی واقع ہورہی ہے ۔

پاکستانی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ کویڈ 19 کی وبائی صورتحال میں ہم نے اپنے ہم وطنوں کا مکمل خیال رکھا ہے اور انکے لئے کویڈ ٹیسٹنگ کی مفت سہولت فراہم کر رکھی تھی ۔ جو لوگ بے روزگار ہوئے انکو مفت راشن تقسیم کرنے کے ساتھ انکے لئے رہائش کا بھی بندوبست کیا مگر متحدہ عرب امارات میں کاروباری مندی کی وجہ سے بے روزگار مزدوروں کو ملک واپس بھجوانے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا ۔ غلام دستگیر نے بتایا کی متحدہ عرب امارات انتظامیہ سے ہم رابطے میں رہے ہیں اور اس وبائی صورتحال میں انہوں نے ہمارے مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

غلام دستگیر نے امید ظاہر کی کہ وبائی صورتحال کے خاتمے تک مشکلات درپیش ہے جب حالات معمول پر اجائنگے تو پاکستانی مزدوروں کو واپس کام کے لئے بلایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں قابلیت کی کمی نہیں ہے ہمارے ہاں ڈاکٹر انجینئرز اور آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد موجود ہے جن کے لئے متحدہ عرب امارات میں کام کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔

Source: CNBC News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button