عالمی خبریںپاکستانی خبریں

کیا واقعی آئین کا سہارا لے کر تحریک انصاف عدم اعتماد کو روک سکتی ہے؟ ابہام کو دور کرنے کیلئے یہ تحریر لازمی پڑھیں

خلیج اردو

تحریر : عاطف خان خٹک
اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا ٹیکنیکل توڑ نکالنے کیلئے حکومت کی جانب سے بادی النظر میں آئین کے حوالے سے ابہام پیدا کیا گیا ہے۔ آرٹیکل تریسٹھ اے کو لے کر حکومتی وزیر فواد چوہدری کی پریس کانفرنس کے بعد حکومت کے حمایتی سوشل میڈیا پر آئین کی ایسی تشریح کرنے میں مصروف ہیں جو حقیقت کے منافی ہے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چونکہ اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک میں 172 اراکین اسمبلی کی حمایت کو ثابت کرنا ہے، اسی وجہ سے حکومتی اراکین کا کام نہیں کہ وہ ووٹ کریں اور یوں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ووٹنگ والے دن ہمارے اراکین اسمبلی میں ووٹ کرنے نہیں جائیں گے۔

مسٹر چوہدری نے بتایا کہ اگر کوئی رکن اس دن اسمبلی میں جاکر ووٹ دے گا تو اسپکر سے کہہ کر اسے روکنے یا اس کے ووٹ کو مسترد کرنے کا کہیں گے اور اس کے خلاف آئین کے ڈیفکشن کلاز کے تحت کارروائی کریں گے۔

ایسے میں ہم نے ضروری سمجھا کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے ، حکومت اور اسپیکر کی جانب سے کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے منع کرنے کا مذکورہ شق کی بنیاد پر کسی رکن کے ووٹ کو مسترد کرنے اور نااہلی سے متعلق وضاحت کریں۔ ہم ان تمام سوالات کے جواب دیں گے جو سوشل میڈیا پر گردش کرتی مواد کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 63 اے کیا ہے؟

آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے مطابق کسی پارلیمانی جماعت کا رکن اگر پارٹی کی رکنیت سے استعفی دے یا دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرے
یا ایوان کے اندر وزیر اعظم یا وزیر اعلی کے انتخاب یا عدم اعتماد کی تحریک ، آئینی ترمیم اور بجٹ کے مالیاتی بل پر پارٹی ہدایت کے خلاف ووٹ دے، تو اس رکن کو پارٹی کا سربراہ یا پارلیمانی رہنما تحریری طور پر پارٹی سے انحراف پر پرائزییڈنگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کو اس رکن کے خلاف کارروائی کیلئے درخواست کرسکتا ہے۔

اس کی مزید وضاحت سے پہلے یہ بیان کرنا اہم ہے کہ پاکستان کے قانون اور آئین میں جب تک آپ سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوتا، آپ کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے آرٹیکل تریسٹھ اے کا استعمال اتنا آسان دکھائی نہین دے رہا۔

کیا اسپیکر اور سیاسی جماعتیں کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روک سکتے ہیں؟
اس سوال کا سیدھا سا جواب تو نہیں میں ہے لیکن یہ گنجائش اخلاقی حد تک صرف سیاسی جماعتوں کے پاس ضرور ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ ایوان کے اندر کی کارروائی میں وہ حصہ نہیں لیں گے یا وہ کسی ووٹنگ کے مرحلے میں شریک نہیں ہوں گے لیکن انہیں اختیار ہرگز نہیں کہ وہ کسی رکن کو ہاتھ سے روکیں یا ان پر دباؤ ڈالے یا ان کو ایوان میں اندر جانے یا ووٹ کاسٹ کرنے سے روکیں اور اسپیکر تو یہ بالکل بھی نہیں کر سکتا۔

کیا کسی رکن اسمبلی کی جانب سے پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ دینے والا ووٹ مسترد ہوگا؟

اس کا جواب نہیں میں ہے۔ ووٹ ایک آئینی اور قانونی اختیار ہے اور جب کوئی رکن ووٹ کاسٹ کرتا ہے تو اسے کوئی بھی مسترد نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ ووٹ دیئے گئے ایس او پیز کے مطابق ڈالا گیا ہو۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کسی رکن نے پارٹی احکامات کو نہ مانتے ہوئے مخالفت میں ووٹ دیا تو وہ مسترد ہوگا۔

آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت کوئی رکن کیسے نااہل ہوگا اور کیا نااہلی کے بعد اس کا ووٹ بھی مسترد ہوگا؟

اگر ایک رکن آئین کی اس شق کے مطابق پارٹی ہدایات سے انحراف کرتا ہے تو اس پارٹی کا سربراہ یا پارلیمانی لیڈر مذکورہ ووٹنگ مرحلے میں پریزائیڈنگ آفیسر یا اگر عدم اعتماد کی تحریک ہے تو اس صورت میں اسپیکر کو تحریری طور پر آگاہ کرے گا کہ اس رکن نے پارٹی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس خط یا مراسلے کی ایک کاپی پریزائیڈنگ آفیسر یا اسپیکر کو اور ایک کاپی الیکشن کمیشن کو ارسال ہوگی۔

اس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی یا پریزائیڈنگ آفیسر منحرف رکن کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوائے گا اور الیکشن کمیشن اس پر نوے دنوں میں فیصلہ کرے گا کہ رکن کو نااہل کیا جائے یا نہیں۔ اگر الیکشن کمیشن اس رکن کو نااہل کرے گا تو وہ رکن اس کے خلاف قومی سپریم کورٹ جانے کا حق رکھتا ہے۔ اس تمام مرحلے میں رکن کا ووٹ مسترد نہیں ہوگا۔

یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی رکن کو اس مرحلے میں جو نااہلی ہوگی وہ تاحیات نہیں بلکہ صرف اس دور کیلئے ہوگی جس میں حکومت بنی ہے اور وہ اگلے الیکشن میں حصہ لے سکے گا۔

تحریک انصاف کیلئے اس آرٹیکل کا استعمال کیسے مشکل ہے؟

چونکہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے کوئی فاروڈ بلاک نہیں بنایا یا کسی بھی طرح اعلان نہیں کیا کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف ووٹ دیں گے، ایسے میں حکومت پیشگی کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتی۔ حکومت کے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ وہ بتائیں کہ ان کا کونسا رکن منحرف ہے۔ اہم یہ بھی ہے کہ اگر کوئی رکن انحراف کا ارادہ رکھتا ہے اور حکومت کو پتہ بھی ہے تو صرف ارادے پر پیشگی کارروائی نہیں کی جا سکتی اور اس کیلئے انحراف کے عمل کا ہونا لازم ہے۔ جب رکن پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا مرتکب ووٹ مخالفت میں ڈال کر کرے گا تب ہی تحریک انصاف کو اس رکن کے خلاف کارروائی کا اختیار ہوگا۔

تحریک عدم اعتماد کیا ہے اور اس کا آئینی طریقہ کار کیا ہے؟

تحریک عدم اعتماد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حکومتی سربراہ ایوان میں موجود عوامی نمائندوں کا وہ اعتماد کھوچکے ہیں جو انہیں اس عہدہ پر تعینات کرکے عوام کے منتخب کردہ نمائندوں نے دیا تھا۔ لہزا یا تو وزیراعظم یہ ثابت کرے کہ اب بھی ان پر عوام یعنی ان کے منتخب کردہ نمائندوں کا اعتماد موجود ہے یا پھر مستعفی ہو جائے۔ اگر وزیر اعظم استعفی دیتا ہے تو حکومت ختم ہوجاتی ہے لیکن اگر وہ پراعتماد ہے تو انہیں عددی اکثریت کے ساتھ یہ ثابت کرنا ہوگا۔

قومی اسمبلی کے ایک تہائی اراکین آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرنے کے بعد اسپیکر آفس میں جمع کرواتے ہیں جس پر اسپیکر قومی اسمبلی 3 یا 7 روز کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اس تحریک پر ایوان میں کارروائی شروع اور چودہ دنوں میں اسے مکمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کا طریقہ کار سیکرٹری قومی اسمبلی کی جانب سے ایوان میں بتایا جائے گا جس کے تحریک میں ووٹنگ کروائی جائے گی اور یہ ووٹنگ اوپن ہوگی۔

طریقہ کار کے مطابق قومی اسمبلی ہال میں دو لابیز بنائی جائیں گی ایک لابی تحریک کے حق میں جبکہ دوسری لابی تحریک کی مخالفت میں۔ اسپیکر کے اعلان کے بعد ارکان تحریک کے حق اور مخالفت والی لابیز کے باہر پڑے رجسٹر پر اپنے دستخط کریں گے۔ قومی اسمبلی اسٹاف ارکان کی تعداد سے متعلق سپیکر کو آگاہ کریں گے۔

عدم اعتماد کی تحریک کے دوران اگر کوئی رکن اپنی پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کےخلاف ووٹ دے گا تو اس جماعت کا پارلیمانی لیڈر پہلے اس رکن کو شوکاز نوٹس جاری کرے گا اور پھر اسپیکر کو فلورکراسنگ کی شق کے تحت کارروائی کےلیے درخواست دے اور سپیکر 30 روز کے اندر اس رکن کےخلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوائے گا جس پر الیکشن کمیشن 90 روز میں فیصلہ کرےگا۔

قومی اسمبلی میں اس وقت کل اراکین کی تعداد 341 ہے۔ حکومت اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کی تعداد 178 ہے۔ اپوزیشن کے اراکین کی کل تعداد 163 ہے۔

حکومتی بینچوں پر بیٹھے تحریک انصاف کے اراکین کی کل تعداد 155 اور ایم کیو ایم اراکین کی تعداد 7 مسلم لیگ ق کے 5 جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے 5 ہیں۔ جی ڈی اے تین عوامی مسلم لیگ ایک جمہوری وطن پارٹی ایک اور آزاد اراکین کی تعداد ایک ہےجبکہ اپوزیشن جماعتوں میں ن لیگ کے اراکین کی تعداد 84. پیپلز پارٹی کے 56 ایم ایم اے کے 15 جبکہ بی این پی کے چار اے این پی کے ایک اور آزاد اراکین کی تعداد تین ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button