
خلیج اردو
دبئی میں رہائش پذیر اسٹیفنی رائیخن باخ روایتی پرتعیش تقاریب کے برعکس سادہ مگر بامعنی تجربات کے ذریعے لگژری ہاسپیٹیلٹی کا تصور نیا رخ دے رہی ہیں۔ ان کے نزدیک اصل شاہانہ طرز زندگی شور شرابے سے نہیں بلکہ خاموشی سے جھلکتا ہے، جہاں تقریبات میں دکھاوے کے بجائے قربت، سادگی اور احساس کو ترجیح دی جاتی ہے۔
انہوں نے 2018 میں نارا کے نام سے مہمان نوازی اور تجربات ترتیب دینے والی کمپنی قائم کی، جو ابتدا میں صحرا کے درمیان ایک میز اور لاؤنج پر مشتمل تھی اور اب پورے خطے میں پھیلے ہوئے منصوبوں اور 200 سے زائد عملے تک جا پہنچی ہے۔ ان تمام منصوبوں کا مرکزی خیال سمندر، صحرا اور شہر میں یادگار تجربات تخلیق کرنا ہے جن میں معیاری کھانا، تخلیقی سرگرمیاں اور دل موہ لینے والے تربیتی و تفریحی پروگرام شامل ہیں۔
جنیوا سے 16 سال قبل دبئی منتقل ہونے کے بعد اسٹیفنی نے بینکاری کی مصروف زندگی چھوڑ کر خاندان پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا، تاہم بعد میں انہوں نے اسی شہر میں لگژری ہاسپیٹیلٹی کے میدان میں اپنی شناخت بنانے کا بیڑا اٹھایا۔ صحرا میں سیاحتی سہولیات کے روایتی انداز کو دیکھ کر انہوں نے محسوس کیا کہ مخصوص اور ذاتی نوعیت کے تجربات کے لیے بہت گنجائش موجود ہے، جس کے نتیجے میں نارا ڈیزرٹ اسکیپ اور بعد ازاں متعدد منصوبے شروع کیے گئے۔
نارا کے تحت صحرا میں آرام دہ قیام، ستاروں کے نیچے کھانا، خصوصی تفریحات، گلیمرس کیمپنگ، نجی تقریبات، ڈھاؤ کروز اور گھر پر لگژری ڈائننگ جیسے مختلف تصورات پیش کیے جا رہے ہیں۔ اسٹیفنی کے مطابق اصل لگژری بڑے اخراجات نہیں بلکہ باریک تفصیلات، معیاری کھانا، خوشگوار ماحول اور یادگار لمحات ہیں جو دیر تک ذہن میں رہ جائیں۔
ان کے منصوبوں نے عالمی برانڈز کی توجہ بھی حاصل کی ہے جبکہ وہ سادگی، پائیدار ترقی اور معیار کو برقرار رکھتے ہوئے نئے تصورات متعارف کرانے کے لیے پرعزم ہیں۔







