
خلیج اردو
یورپی یونین کے ہوائی اڈوں پر بارڈر چیک پوائنٹس پر بائیومیٹرک شناختی نظام کے نفاذ کے بعد شینگن ممالک جانے والے مسافروں کے لیے امیگریشن کا عمل مزید تیز اور آسان ہو جائے گا۔
12 اکتوبر سے شروع ہونے والا یہ نیا نظام روایتی پاسپورٹ اسٹیمپنگ کی جگہ لے گا، جسے کئی مسافروں نے سست اور غیر ضروری قرار دیا تھا۔ تاہم کچھ لوگ اس روایتی عمل کے ختم ہونے پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے لیے پاسپورٹ پر لگی مہر سفر کی یادگار ہوا کرتی تھی۔
نیا ڈیجیٹل انٹری۔ایگزٹ سسٹم یورپی یونین کے باہر کے ان مسافروں پر لاگو ہوگا جو شینگن علاقے میں 90 دن تک قیام کرتے ہیں۔ یہ نظام بتدریج تمام شینگن بارڈر پوائنٹس پر نافذ کیا جائے گا اور اس کی مکمل تکمیل اپریل 2026 تک متوقع ہے۔
پہلی بار 12 اکتوبر کے بعد شینگن خطے میں سفر کرنے والے غیر ملکی مسافروں کو بائیومیٹرک ڈیٹا یعنی چہرے کی تصویر، فنگر پرنٹ اور پاسپورٹ تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ حکام کے مطابق پہلے سفر کے دوران امیگریشن میں 45 منٹ سے ایک گھنٹے تک وقت لگ سکتا ہے۔
ٹریول ایجنٹس کے مطابق پہلے سفر میں تاخیر ممکن ہے لیکن بعد کے سفر تیز تر ہوں گے کیونکہ نظام خودکار چیکنگ کی سہولت فراہم کرے گا۔ یہ اقدام نہ صرف سیکیورٹی بڑھائے گا بلکہ امیگریشن کے عمل کو بھی جدید بنائے گا۔
متعدد ایئر لائنز بشمول ایمریٹس اور ایئر عریبیہ نے اپنے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ نئے نظام کے آغاز کے بعد بارڈر چیک پر اضافی وقت رکھا جائے کیونکہ پاسپورٹ اسٹیمپنگ کے بجائے فیشل اور فنگر اسکیننگ کی جائے گی۔
یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ ان کا بائیومیٹرک ڈیٹا تین سال تک شینگن ڈیٹا بیس میں محفوظ رہے گا اور صرف کسی تبدیلی یا غلطی کی صورت میں دوبارہ جمع کرانا ہوگا، جبکہ سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے اس نظام سے مستثنیٰ ہیں۔







