متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں ایک اعشاریہ چھ ڈگری ریکارڈ، درجہ حرارت میں معمولی کمی مگر سردی کا احساس زیادہ ہوگا

خلیج اردو
نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے مطابق آئندہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے درجہ حرارت میں صرف معمولی کمی متوقع ہے، تاہم تیز اور تازہ ہواؤں کے باعث سردی کا احساس نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ دن کے وقت درجہ حرارت بڑی حد تک مستحکم رہے گا، لیکن بعض علاقوں میں پہلے ہی نقطہ انجماد کے قریب کم ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔

این سی ایم کے ماہر موسمیات ڈاکٹر احمد حبیب کے مطابق درجہ حرارت میں کمی محدود رہے گی اور ایک سے تین ڈگری سینٹی گریڈ تک ہی کمی متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل تبدیلی درجہ حرارت سے زیادہ ہواؤں کے باعث محسوس ہونے والی سردی میں ہوگی۔ شمال مغرب سے آنے والی ہوائیں پہلے ساحلی علاقوں کو متاثر کریں گی اور بعد ازاں اندرونِ ملک پھیلیں گی، جبکہ سمندری صورتحال بھی خراب ہونے کا خدشہ ہے، جہاں خلیج عرب میں سمندر دن بھر شدید سے بہت شدید رہ سکتا ہے۔

ڈاکٹر احمد حبیب کے مطابق اگرچہ اصل درجہ حرارت میں زیادہ فرق نہیں آئے گا، لیکن شمال مغربی ہوائیں سردی کے احساس کو بڑھا دیں گی، جس کے باعث لوگوں کو زیادہ ٹھنڈ محسوس ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ مغربی یو اے ای خصوصاً الظفرہ ریجن میں کم سے کم درجہ حرارت ایک سے تین ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے، جبکہ جبل حفیط اور جبل جیس جیسے پہاڑی علاقوں میں بلندی کے باعث درجہ حرارت مزید کم ریکارڈ ہو رہا ہے۔

العین کے شمال میں واقع رکنہ کا علاقہ بھی شدید سردی کے لیے جانا جاتا ہے، جہاں زمین کی ساخت اور ہواؤں کے رخ کے باعث کم سے کم درجہ حرارت میں تین سے چار ڈگری تک کمی ہو سکتی ہے، اگرچہ دن کے درجہ حرارت پر اس کا زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ گزشتہ جمعہ کی صبح رکنہ میں ہلکی پالا بھی ریکارڈ کیا گیا تھا، جو یو اے ای میں موسم سرما کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کے بعد ہواؤں کا رخ مشرق اور شمال مشرق کی جانب ہو جائے گا، جس سے منگل اور بدھ کو درجہ حرارت میں ایک سے تین ڈگری کا اضافہ متوقع ہے، تاہم ہفتے کے اختتام پر ایک بار پھر معمولی کمی اور تازہ ہواؤں کے باعث سردی کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ این سی ایم نے جزائر اور خلیج عرب کے بعض حصوں میں ہلکی بارش کے امکان کے ساتھ ساتھ مغربی علاقوں میں دھند بننے کے خدشے سے بھی آگاہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button