
خلیج اردو
ابوظہبی، 2 جولائی 2025
ابوظہبی نے بدھ کے روز فلائنگ ٹیکسی کا پہلا کامیاب تجرباتی پرواز البطین ایگزیکٹو ایئرپورٹ پر مکمل کر لی۔ یہ پرواز امریکی کمپنی آرچر ایوی ایشن اور ابوظہبی انویسٹمنٹ آفس (Adio) کے تعاون سے کی گئی، جو کہ 2026 کے اوائل میں اس سروس کے تجارتی آغاز کی تیاری کا حصہ ہے۔
عمران مالک، جو Adio میں خودکار نقل و حرکت اور روبوٹکس کے سربراہ ہیں، نے کہا،
"آج کا دن صرف ایک پرواز کا تجربہ نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی بنیاد ہے۔ ہم پائلٹ ٹریننگ، مرمت و دیکھ بھال (MRO)، ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ اور مقامی مینوفیکچرنگ جیسے پہلوؤں کو بھی اس سسٹم میں شامل کر رہے ہیں۔”
شدید موسم میں جانچ کا عمل جاری
انہوں نے بتایا کہ گرمیوں کے دوران مزید ٹیسٹنگ کی جائے گی تاکہ گاڑی کو شدید درجہ حرارت، نمی اور گرد و غبار کے ماحول میں جانچا جا سکے۔
"ہم چاہتے ہیں کہ یہ طیارہ شہر کے اوپر پرواز کرے اور 2026 کے آغاز میں تجارتی سطح پر کام شروع کرے۔”
آرچر ایوی ایشن کی وضاحت
ڈاکٹر طالب الهنائی، جو متحدہ عرب امارات میں آرچر ایوی ایشن کے مینیجر ہیں، نے بتایا کہ ابوظہبی میں "مڈنائٹ” نامی ایئرکرافٹ کی پہلی عمودی پرواز کامیابی سے کی گئی۔
"یہ پرواز گرمی، نمی اور گردوغبار جیسے مقامی عوامل کو پرکھنے کے لیے کی گئی تاکہ ہم تجارتی آپریشن کے لیے مکمل تیاری حاصل کر سکیں۔”
انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں بغیر پائلٹ کے ایئرکرافٹ استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ رواں سال کے آخر تک پائلٹ والے ماڈل بھی متحدہ عرب امارات میں شامل کیے جائیں گے۔
ابتدائی طور پر محدود فلیٹ
آرچر ابتدائی تجارتی مرحلے میں متحدہ عرب امارات میں ایک چھوٹا فلیٹ متعارف کرائے گا۔
عمران مالک کے مطابق،
"ہماری اولین ترجیح محفوظ تجارتی آغاز ہے۔ ہم فضائی حدود کے ساتھ مطابقت، ورٹی پورٹس کی تیاری، اور مکمل ماحولیاتی نظام کی فعالیت پر کام کر رہے ہیں۔”
مستقبل کا پلان: مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدات
انہوں نے مزید بتایا کہ آرچر ایوی ایشن 2027 سے العین میں فلائنگ ٹیکسی کی مقامی مینوفیکچرنگ شروع کرے گی، اور اگلے مرحلے میں ان طیاروں کو علاقائی ممالک کو برآمد کیا جائے گا۔
قیمت عوامی دسترس میں ہوگی
عمران مالک نے واضح کیا کہ اس سروس کو صرف پرتعیش سروس نہ سمجھا جائے،
"یہ تصور غلط ہے کہ یہ صرف امیر افراد کے لیے ہوگی۔ جیسے جیسے مزید ورٹی پورٹس اور ایئرکرافٹس کا اضافہ ہوگا، قیمت کم ہو کر عوامی سطح پر قابل رسائی بن جائے گی۔ ہمارا مقصد روزمرہ سفر کا مؤثر متبادل فراہم کرنا ہے۔”
ابوظہبی کی یہ کامیاب پرواز متحدہ عرب امارات کے مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ کی طرف پیش رفت کا اہم سنگ میل ہے۔





