متحدہ عرب امارات

ابوظہبی اپیل کورٹ کا عمر قید کا فیصلہ کالعدم، منشیات کا الزام ذاتی استعمال میں تبدیل

خلیج اردو

ابوظہبی کی کورٹ آف اپیل نے منشیات اور نفسیاتی ادویات کی اسمگلنگ کے الزام میں دی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مقدمے میں اسمگلنگ ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے، اس لیے الزام کو ذاتی استعمال کے لیے منشیات رکھنے تک محدود کیا جاتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کیس فائل میں ایسا کوئی حتمی ثبوت شامل نہیں جو منشیات کی تجارت یا اسمگلنگ کے ارادے کو شک سے بالاتر ثابت کرے۔ تفتیش اور گرفتاری کے طریقہ کار سے بھی ملزم کا منشیات کی اسمگلنگ سے قانونی طور پر مطلوبہ تعلق ثابت نہیں ہو سکا، جس کے باعث عدالت نے الزام کی قانونی نوعیت تبدیل کر دی۔

امارات الیوم کے مطابق یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب ملزم کو ابتدائی عدالت میں چرس اور نفسیاتی ادویات اسمگلنگ کے لیے رکھنے اور منشیات استعمال کرنے کے الزامات میں پیش کیا گیا۔ نچلی عدالت نے اسمگلنگ پر عمر قید، دیگر الزامات پر تین ماہ قید، ضبط شدہ اشیا کی ضبطگی، ملک بدری اور عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ملزم نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے اسمگلنگ کی تردید کی جبکہ منشیات استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسمگلنگ کے الزام سے بری کیا جائے یا زیادہ سے زیادہ رعایت دی جائے۔

اپیل کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ تفتیشی عمل میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حکام نے کس بنیاد پر ملزم کو اسمگلنگ میں ملوث قرار دیا، نہ ہی کسی تشہیر، لین دین، مذاکرات یا ترسیل کا کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔ عدالت کے مطابق مبینہ اسمگلنگ سرگرمی ملزم سے آزاد تھی اور وہ کسی ایسے عمل میں رنگے ہاتھوں نہیں پکڑا گیا جو تجارت کی نشاندہی کرتا ہو۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ گرفتاری کے وقت کوئی اسمگلنگ لین دین نہیں ہو رہا تھا۔ اگرچہ ابتدائی بیان میں تین مواقع پر منشیات فراہم کرنے کا ذکر تھا، تاہم بعد میں ملزم نے استغاثہ کو بتایا کہ اس نے محض ایک دوست کی مدد معمولی رقم کے عوض کی تھی، جسے عدالت نے غیر معتبر اور بغیر تائید کے قرار دیا۔

ضبط کی گئی مقدار اور منشیات استعمال کے شواہد کی بنیاد پر عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ منشیات رکھنے کا مقصد ذاتی استعمال تھا نہ کہ اسمگلنگ۔ فوجداری طریقہ کار کے قانون کے آرٹیکل 215 کے تحت عدالت نے بنیادی الزام کو ذاتی استعمال کے لیے منشیات رکھنے میں تبدیل کرتے ہوئے تمام جرائم کو باہم مربوط قرار دیا اور ایک ہی سزا کے طور پر تین ماہ قید سنائی، جبکہ ملک بدری اور عدالتی فیس برقرار رکھی گئی۔

عدالت نے کہا کہ دفاع کے دلائل میں کوئی نئی بات شامل نہیں تھی اور جب اسمگلنگ کی بنیاد ہی ثابت نہ ہو سکی تو ابتدائی فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا۔ یوں عمر قید کا فیصلہ ختم کر کے اسے تین ماہ قید میں تبدیل کر دیا گیا۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button