متحدہ عرب امارات

ابوظبی کا جدید "سہیل” ڈرون — جیٹ انجن سے چلنے والا آگ بجھانے والا نیا انقلاب

خلیج اردو
ابوظبی — متحدہ عرب امارات کی سول ڈیفنس نے "سہیل” نامی ایک تجرباتی جیٹ پاورڈ فائر فائٹنگ ڈرون متعارف کرایا ہے جو خطرناک صنعتی یا بلند عمارتوں میں لگنے والی آگ میں براہِ راست داخل ہو کر کارروائی کر سکے گا۔

انجینئر علی المدفعی کے مطابق یہ ڈرون اُن حالات میں استعمال کیا جائے گا جہاں فائر فائٹرز کی جان کو شدید خطرات لاحق ہوں، جیسے صنعتی کمپلیکس یا ایلومینیم کلیڈنگ سے ڈھکی اونچی عمارتوں میں لگی آگ۔ ان کا کہنا تھا کہ خودکار نظام کے استعمال سے آگ بجھانے کا عمل زیادہ مؤثر اور محفوظ ہو جائے گا کیونکہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر آگ پر قابو پایا جا سکے گا۔

"سہیل” مکمل طور پر ابوظبی میں ڈیزائن کیا گیا ہے اور فی الحال یہ کمپیوٹر ماڈل کی صورت میں موجود ہے۔ سول ڈیفنس کے اس منصوبے کا مقصد فائر فائٹنگ کے اگلے دور کے امکانات کو حقیقت میں بدلنا ہے۔ ایک فعال پروٹوٹائپ 2026 کی آخری سہ ماہی میں تیار ہونے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ ڈرون آٹھ چھوٹے جیٹ انجنوں سے لیس ہے جو اس کی طاقت اور توازن فراہم کرتے ہیں۔ اسے فائر ٹرک سے منسلک رکھا جائے گا تاکہ مسلسل پانی کی فراہمی برقرار رہے۔ ڈرون کا شیل سیرامک کوٹنگ والے کاربن فائبر سے بنایا گیا ہے جو 1200 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت برداشت کر سکتا ہے، جبکہ 3D LiDAR سینسر اسے دھوئیں میں راستہ دکھاتے ہیں۔

اس میں 100 لیٹر کیروسین ایندھن رکھنے کی گنجائش ہے جو تقریباً 40 منٹ کی پرواز فراہم کرے گی۔ عملی حدِ پرواز 60 میٹر جبکہ زیادہ سے زیادہ اونچائی 90 میٹر تک ہوگی۔

انجینئر المدفعی کے مطابق "سہیل” کا نام عرب دنیا میں امید اور موسم کی تبدیلی کی علامت ہے۔ سہیل وہ ستارہ ہے جس کے طلوع ہونے پر گرمیوں کا اختتام اور امیدوں کے موسم کا آغاز مانا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ڈرون کا نیلا رنگی ڈیزائن خود المدفعی نے تیار کیا جو جاپانی اینیمی اور روبوٹ کلچر سے متاثر ہیں، اسی مناسبت سے اسے جاپان میں پہلی بار پیش کیا گیا۔

فی الحال ابوظبی کی سول ڈیفنس کے ڈرونز صرف نگرانی اور معلومات فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، تاہم "سہیل” اس صلاحیت کو ایک نئے دور میں لے جائے گا — جہاں ڈرون آگ کو صرف دیکھنے نہیں بلکہ بجھانے کے لیے استعمال ہوں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button