متحدہ عرب امارات

ابوظبی میں روبوٹس نے اماراتی روایتی عیالہ رقص کر کے سب کو حیران کر دیا

خلیج اردو
ابوظبی — خودکار ٹیکنالوجی کے مظاہرے پر مبنی "ابوظبی آٹونومس ویک” میں اس بار توجہ کا مرکز نہ صرف خود چلنے والی کشتیوں اور اڑنے والی ٹیکسیوں پر تھی بلکہ روبوٹس نے اپنی منفرد اداؤں سے سب کے دل جیت لیے۔

تقریب جو 10 سے 15 نومبر تک جاری ہے، میں ایسے ہیومنائیڈ روبوٹس بھی شامل ہیں جو بارسٹاز، ڈیلیوری بوٹس اور روزمرہ کاموں میں انسانوں کی مدد کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تاہم ایک چھوٹے روبوٹ نے سب کی توجہ اپنی جانب اس وقت مبذول کر لی جب وہ اماراتی مردوں کے روایتی "عیالہ” رقص میں حصہ لیتا نظر آیا۔

اماراتی "غُترہ” سر پر پہنے یہ روبوٹ — جسے "بووسٹر روبوٹ” کہا جاتا ہے — روایتی لاٹھیوں کے ساتھ عیالہ رقص پیش کر رہا تھا جبکہ اردگرد موجود افراد بھی قومی جذبے سے سرشار ہو کر صدرِ مملکت کی درازیِ عمر اور سلامتی کے نغمے گا رہے تھے: "اللہ آپ کی عزت برقرار رکھے محمد”۔

یہ روبوٹ چینی کمپنی Booster Robotics کی تخلیق ہے، جس کی ابتدائی قیمت 5,999 امریکی ڈالر ہے۔ یہ تین ماڈلز — Geek، Education اور Professional — میں دستیاب ہے۔ روبوٹ کا وزن صرف 19.5 کلوگرام اور قد 95 سینٹی میٹر ہے، جسے آسانی سے اٹھا کر لے جایا جا سکتا ہے۔

اس روبوٹ کی خاص پہچان اس کی رقص کی مہارت ہے، جس کے لیے اسے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں یہ روبوٹ ابوظبی کی گلیوں میں چلتا دکھائی دیا، جہاں مقامی باشندے اور سیاح حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔

"بووسٹر K1” وہی ماڈل ہے جس نے 2025 کے RoboCup Soccer مقابلوں میں "KidSize” کیٹیگری کا چیمپئن ٹائٹل حاصل کیا تھا، اور اسے مصنوعی ذہانت کی تعلیم میں بطور اسسٹنٹ بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کا ایک بڑا ماڈل "Booster T1” کے نام سے بھی دستیاب ہے جو تین اقسام — Basic، Standard اور Customised — میں بنایا جاتا ہے۔

چینی کمپنی نے 2023 میں آغاز کیا اور اس کی حکمتِ عملی سائنسی تحقیق اور تعلیمی استعمال پر مرکوز ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ یو اے ای میں روبوٹس نے سامعین کو حیران کیا ہو — چند ماہ قبل ایک ہیومنائیڈ روبوٹ دبئی کے حکمران کے ساتھ مجلس میں شریک ہوا تھا، جس نے رہنما کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا اور سب کی توجہ حاصل کر لی تھی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button