
خلیج اردو
دبئی — متحدہ عرب امارات کے قومی ریلوے منصوبے "اتحاد ریلوے” کا ممکنہ طور پر ایک اسٹاپ دبئی ورلڈ سنٹرل میں قائم نئے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوگا، جس سے مسافروں کو ٹرین اسٹیشن سے ہی چیک اِن کی سہولت حاصل ہو سکے گی۔
دبئی ایئرپورٹس کے سی ای او پال گرفِتھس نے فلائٹ گلوبل سے گفتگو میں بتایا کہ "یو اے ای کے منصوبہ بند اتحاد ریلوے نیٹ ورک میں دبئی ورلڈ سنٹرل (DWC) پر ایک اسٹاپ شامل ہونے کی توقع ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایک مربوط نظام بنایا جا رہا ہے جس کے تحت ایئرپورٹ جانے والے مسافر اپنے بیگ ٹرین اسٹیشن ہی سے چیک اِن کرا سکیں گے۔
اتحاد ریلوے کی مسافر ٹرین سروس 2026 میں شروع ہونے جا رہی ہے، جس کے تحت 2030 تک سالانہ تقریباً 3 کروڑ 65 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کی جائے گی۔ یہ ریلوے نیٹ ورک ابوظبی، دبئی، شارجہ، راس الخیمہ، فجیرہ، العین، الرویس، المرفہ، الذید، غویفات (سعودی عرب کی سرحد پر) اور عمان کے شہر صحار (حفیط ریل منصوبے کے ذریعے) کو آپس میں جوڑے گا۔
دبئی اور ابوظبی کے درمیان ایک نئی ہائی اسپیڈ الیکٹرک لائن بھی بنائی جا رہی ہے جس میں ریئم آئی لینڈ، یاس آئی لینڈ، سعادیت آئی لینڈ، زاید ایئرپورٹ، المکتوم ایئرپورٹ کے قریب ایک اسٹیشن، اور الجداف (دبئی کریک کے قریب) سمیت چھ اسٹیشن ہوں گے۔ یہ تیز رفتار ٹرین دونوں شہروں کے درمیان صرف 30 منٹ میں سفر مکمل کرے گی اور اس کی رفتار 350 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوگی۔
دبئی حکومت کے مطابق اپریل 2024 میں اعلان کیا گیا تھا کہ آئندہ تمام پروازوں اور آپریشنز کو دبئی انٹرنیشنل (DXB) سے المکتوم انٹرنیشنل (DWC) منتقل کیا جائے گا۔ 128 ارب درہم مالیت کے اس نئے ٹرمینل کی تعمیر کے بعد ایئرپورٹ کی سالانہ مسافر گنجائش 26 کروڑ تک بڑھ جائے گی، جو آئندہ 10 سالوں میں DXB کی تمام سرگرمیوں کو مکمل طور پر اپنے اندر سمو لے گا۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کا مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے، جس نے 2025 کی پہلی ششماہی میں 4 کروڑ 60 لاکھ مسافروں کو سنبھالا — جو اب تک کی ریکارڈ تعداد ہے۔
پال گرفِتھس کے مطابق DWC میں منتقلی کے دوران دبئی ایئرپورٹس کو اضافی عملے کی ضرورت ہوگی تاکہ آزمائشی اور عبوری مرحلے میں تمام آپریشنز کو مؤثر طریقے سے چلایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد ایک ایسا "رگڑ سے پاک” ایئرپورٹ نظام تشکیل دینا ہے جہاں بائیو میٹرک شناخت کے ذریعے مسافر پورا سفر بغیر رُکے مکمل کر سکیں۔






