
خلیج اردو
امریکا میں 27 سال تک غلط طور پر قید رہنے والے مصور Valentino Dixon نے اعلان کیا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران اپنی جیل میں بنائی گئی پینٹنگز نیلام کرکے اس کی نصف رقم متحدہ عرب امارات میں قرض کے باعث قید افراد کی رہائی کیلئے عطیہ کریں گے۔
شارجہ میں 21 جنوری 2026 کو خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "مجھے ابھی یہ نہیں معلوم کہ کس اتھارٹی سے رابطہ کرنا ہے لیکن میری نیت واضح ہے، میں یہ رقم کسی قیدی کی رہائی کیلئے دینا چاہتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں آزادی کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔”
یہ خیال دبئی کے معروف کاروباری شخصیت Firoz Merchant کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کیلئے شروع کی گئی مہم سے متاثر ہو کر سامنے آیا۔
Valentino Dixon نے 1999 میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام طارق رمضان عبداللہ رکھ لیا۔ انہیں 21 سال کی عمر میں نیویارک کے شہر Buffalo میں ایک قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی حالانکہ بعد میں یہ ثابت ہوگیا کہ وہ بے گناہ تھے۔ انہیں Attica Correctional Facility بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے روزانہ 10 گھنٹے تک ڈرائنگ کی مشق جاری رکھی۔
قید کے دوران انہوں نے دو دہائیوں میں 300 سے زائد گالف کورسز کی ڈرائنگز بنائیں جن میں دبئی کے Emirates Golf Club اور Dubai Creek Golf & Yacht Club بھی شامل ہیں، جنہیں انہوں نے صرف رسالوں میں دیکھ کر تخلیق کیا تھا۔
بعد ازاں گالف ڈائجسٹ میں ان کے کام پر رپورٹ شائع ہونے کے بعد ان کے کیس پر قانونی ماہرین نے توجہ دی اور 2018 میں انہیں 27 سال بعد باعزت بری کر دیا گیا۔
ان کے فن پارے آج ہزاروں ڈالرز میں فروخت ہوتے ہیں جبکہ بعض بڑے فن پاروں کی قیمت 10 لاکھ ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔ وہ سابق امریکی صدر Bill Clinton، Barack Obama، Michelle Obama جبکہ معروف گالف کھلاڑی Tiger Woods اور Jack Nicklaus سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔
سال 2023 میں وہ Dubai Desert Classic میں خصوصی مہمان کے طور پر دبئی آئے اور ان گالف کورسز کا دورہ بھی کیا جنہیں وہ کبھی جیل میں بیٹھ کر بنایا کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا، "اگر میری فروخت ہونے والی پینٹنگز کی نصف رقم بھی کسی قیدی کی آزادی کا سبب بن جائے تو یہ میرے لیے کسی بھی قیمت سے زیادہ اہم ہوگی۔”
یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ ذاتی آزمائش سے گزرنے والے افراد معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔







