متحدہ عرب امارات

قانون کے بارے میں جانیئے: کیا آپ کا آجر نوٹس کے بغیر آپ کی خدمات ختم کر سکتا ہے؟

خلیج اردو
22 نومبر 2020
دبئی: متحدہ عرب امارات میں قانون سے متعلق معلومات رکھنے بہت اہم ہے۔آپ اس خبر میں سوال و جواب کے نتیجے میں ایسی معلومات حاصل کر پائیں گے جو آُپ کیلئے سودمند ہوں گے۔ گلف نیوز کے ایک صارف نے کیا سوال پوچھے ہیں اور ان کے جوابات کیا ہیں ؟ زیل میں ملاحظہ کیجئے۔

سوال: 1
میں مڈیکل سنٹر میں منیجر ہوں، کیا ایک آجر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بغیر نوٹس کے کسی ملازم کی خدمات ختم کر دیں ؟

جواب: 1
آپ کے سوال کا جواب وفاقی قانون نمبر 8 جو کہ 1980 میں بنا تھا، اس قانون کے آرٹیکل 120 ایک آجر کسی ملازم کی خدمات صرف مندرجہ زیل صورتوں میں ختم کر سکتا ہے۔

1) اگر ملازم غلط شناخت کے ساتھ یا جعلی دستاویزات کے ساتھ ملازمت میں آیا ہو۔
2) اگر ملازم پروبیشن پر ہو اور اس دوران ملازمت سے وہ سبکدوش ہو سکتا ہے اور پروبیشن کے اختتام پر وہ اسے ختم کر سکتا ہے۔
3) اگر ملازم اپنے مالک کی پراپرٹی یا اثاثوں کو نقصان پہنچائے گا اور اس کی غلطی بھی ہو۔ اسے ایسی صورت میں 48 گھنٹوں میں ملازمت سے نکالا جا سکتا ہے۔
4) اگر کارکن صنعتی حفاظت یا کام کی جگہ کی حفاظت کے سلسلے میں دیئے گئے ہدایات کی نافرمانی کرتا ہے اور یہ ہدایات لکھے ہون اور انہیں زبانی طور پر بتایا گیا ہو تو ایسی صورت میں ملازم کو نکالا جا سکتا ہے۔ ایک انُرھ شخص کو جب زبانی بتایا گیا ہو تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے پڑھنا نہیں آتا کیونکہ معلومات ان کو زبانی دی گئیں ہوتیں ہیں۔

5) اگر کارکن ملازمت کے معاہدے کے تحت اپنے بنیادی فرائض سرانجام نہیں دیتا ہے ، اسے وارنگگ دی گئی ہوا اور اس کے خلاف تحقیقات بھی چل رہی ہوں اور بار بار انتباہ کے باوجود ملازم غافل ہو اور خلاف ورزی پر قائم رہتا ہےتو اسے ملازمے سے نکالا جا سکتا یے۔

6) اگر کارکن اس ادارے کے خفیہ راز کو افشاں کرتا ہو تو اسے نکالا جا سکتا ہے۔

7) گر کسی فاضل عدالت کے ذریعہ ملازم کو غیرت ، ایمانداری یا عوامی اخلاقیات سے متعلق جرم کی سزا سنائی جاتی ہے۔

8) اگر مزدور شراب کی حالت میں ہو یا کام کے اوقات کے دوران کسی منشیات کے زیر اثر پایا جاتا ہے۔

9) اگر کام کرتے ہوئے ، ملازم اپنے آجر ، ذمہ دار مینیجر یا اپنے کسی بھی ساتھی پر حملہ کرتا ہے۔

10) اگر ملازم 7 دن سے زیادہ غیر حاضر رہے یا بغیر کسی وجہ کے 20 دن کام چھوڑ دے تو انہیں کام سے نکالا جائے گا۔ کسی بھی دوسرے حالات میں کسی ملازم کو ختم کرنے کے لئے کی جانے والی کارروائی کو لیبر قانون کے خلاف سمجھا جائے گا۔

سوال نمبر 2: میں نے چھ ماہ قبل اپنی ملازمت کھوئی تھی اور متحدہ عرب امارات سے اپنے ملک واپس چلا گیا تھا۔ مجھے اپنے اینڈ سروسز کے مراعات نہیں ملے ، اور بینکوں نے میرے خلاف کریڈٹ کارڈ لون کے لئے عدالت میں ایک مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے باوجود کہ میں نے معقول رقم کی پیش کش کی ہے لیکن بینک مجھ سے بات چیت کرنے کو تیار نہیں ہے۔
بینک جس سود کی رقم مانگ رہا ہے وہ بہت بڑی رقم ہے۔ میں نے کل کریڈٹ کارڈ کی رقم سے 50 فیصد ادا کرنے کی پیش کش کی لیکن بینک نے میری پیش کش مسترد کردی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کیا کیا جاسکتا ہے؟ میں بتاتا چلاوں کہ میں ابھی متحدہ عرب امارات میں نہیں ہوں اور موجودہ صورتحال کی وجہ سے میں متحدہ عرب امارات نہیں آسکتا ۔ اس قرض کی ضمانت انشورنس کمپنی فراہم کرتی ہے ۔ بینک انشورنس کمپنی کے ساتھ اسے حل نہیں چاہتا ہے اور صرف میرے پھیچے پڑا ہے۔ اس صورت حال میں براہ مہربانی، مشورہ دیں.

جواب 2نمبر : اگر مقدمہ پہلے ہی عدالت میں ہے تو سوال کرنے والے کے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے کہ وہ مجاز عدالت کو یہ ثابت کرنے کے لئے وکیل کی تقرری کرے کہ قرض کی انشورنس ہوئی ہے۔ وکیل کے ذریعے انشورنس کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہئے۔ اسے بینک کے ذریعہ دائر اسی مقدمے میں فریق بنایا جائے اور اگر فیصلہ سائل کے حق میں آتا ہے تو عدالت انشورنس کمپنی کو قرض ادا کرنے کا حکم دے گی۔

Source : Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button