
خلیج اردو
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے نہ صرف تیل بلکہ عالمی انٹرنیٹ اور تجارت کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 21 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، وہیں سمندر کے نیچے فائبر آپٹک کیبلز کا جال بھی موجود ہے جو یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ڈیجیٹل رابطے کو برقرار رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ کیبلز عالمی ڈیٹا ٹریفک کا 95 فیصد سے زائد حصہ منتقل کرتی ہیں، جس پر تقریباً 32 کھرب ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت کا انحصار ہے، جس میں مالیاتی نظام، تجارت اور کلاؤڈ سروسز شامل ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے دوران ان کیبلز کو نقصان پہنچا یا وہ بند ہو گئیں تو عالمی تجارت کو 5 کھرب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے، جبکہ ہفتہ وار نقصانات 10 سے 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اب صرف تیل کی گزرگاہ نہیں بلکہ “ڈیجیٹل شہ رگ” بن چکی ہے، اور اس ایک مقام پر اتنی بڑی انفراسٹرکچر کی موجودگی عالمی نظام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنگی حالات کے باعث کیبلز کی مرمت کرنے والے جہاز بھی متاثرہ علاقوں میں کام نہیں کر پا رہے، جس سے کسی بھی خرابی کی صورت میں بحالی کا عمل کئی ماہ تک تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی 70 سے 90 فیصد تک متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ پاکستان میں بھی 50 سے 60 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال پیدا ہوئی تو عالمی مالیاتی منڈیاں، بینکنگ نظام اور آئی ٹی انڈسٹری شدید متاثر ہو سکتی ہے، اور اس کے اثرات فوری طور پر پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔







