
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں اپریل 2026 کے لیے پیٹرول کی نئی قیمتوں کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مارچ کے پہلے تین ہفتوں میں عالمی برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 54 فیصد بڑھ کر 72 ڈالر سے 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ایک موقع پر یہ 118 ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی، تیل کی سپلائی پر اثر انداز ہو رہی ہے، جس کے باعث قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے بھی عالمی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جس سے سپلائی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
اگر ماضی کے رجحانات کو دیکھا جائے تو 2022 میں روس یوکرین جنگ کے دوران جب تیل 125 ڈالر فی بیرل تک پہنچا تھا تو یو اے ای میں پیٹرول کی قیمتیں 4 درہم فی لیٹر سے بھی تجاوز کر گئی تھیں۔
مارچ 2026 میں بھی یو اے ای نے پیٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 14 فلس فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد سپر 98 کی قیمت 2.59 درہم اور اسپیشل 95 کی قیمت 2.48 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو اپریل میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا باضابطہ اعلان 31 مارچ کو متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صارفین کو مزید مہنگے ایندھن کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔







